خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 251
خطبات مسرور جلد سوم 251 جہاں کئی قسم کے خطرات ہوتے ہیں، گزارا کرتے تھے۔اس بارہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ: خطبہ جمعہ 22 اپریل 2005ء اصل بات یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کے ساتھ اُنس اور ذوق پیدا ہو جاتا ہے تو پھر دنیا اور اہل دنیا سے ایک نفرت اور کراہت پیدا ہو جاتی ہے۔بالطبع تنہائی اور خلوت پسند آتی ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بھی یہی حالت تھی۔اللہ تعالیٰ کی محبت میں آپ اس قد رفنا ہو چکے تھے کہ آپ اس تنہائی میں ہی پوری لذت اور ذوق پاتے تھے۔ایسی جگہ میں جہاں کوئی آرام کا اور راحت کا سامان نہ تھا اور جہاں جاتے ہوئے بھی ڈر لگتا ہو، آپ وہاں کئی کئی راتیں تنہا گزارتے تھے۔اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ آپ کیسے بہادر اور شجاع تھے۔جب خدا تعالیٰ سے تعلق شدید ہو تو پھر شجاعت بھی آ جاتی ہے اس لئے مومن کبھی بزدل نہیں ہوتا۔اہل دنیا بز دل ہوتے ہیں۔ان میں حقیقی شجاعت نہیں ہوتی۔“ (ملفوظات جلد چہارم صفحه 317 جدید ایڈیشن - الحکم مورخه 10 اگست 1905ء صفحه 2°3) پھر ہم دیکھتے ہیں کہ وحی نازل ہونے کے بعد مختلف اوقات میں آپ نے کس قدر بہادری اور جرأت کے مظاہرے کئے۔مکہ کی تیرہ سالہ زندگی میں یعنی دعوی نبوت کے بعد آپ کو ہر طرح سے ڈرایا دھمکایا گیا اور آپ کے بزرگوں اور پناہ دینے والوں کی پناہیں آپ سے ہٹانے کی کوششیں کی گئیں۔لیکن اس جرات و شجاعت کے پیکر نے ان کی ذرہ بھی پرواہ نہیں کی۔اس ملگی زندگی میں آپ پر ظلم اور زیادتیوں کے واقعات کی روایات جو ہم تک پہنچی ہیں ان میں سے چند ایک کا ذکر کرتا ہوں، جن سے پتہ چلتا ہے کہ آپ نے کسی بہادری اور جرات اور بغیر کسی پریشانی اور گھبراہٹ کے اظہار کے ان سب چیزوں کا مقابلہ کیا۔آپ کو فکر رہتی تھی تو اپنے ماننے والوں کی۔یہ فکر ہوتی تھی کہ ان پر ظلم نہ ہوں۔روایتوں کو پڑھتے ہوئے بعض دفعہ ذہن کے رجحان کے مطابق ایک آدھ پہلو سیرت کا سامنے آتا ہے لیکن اگر دیکھا جائے تو بعض ایسی روایتیں ہیں جن میں ایک ایک حدیث میں آپ کی سیرت اور خلق کے کئی پہلو نظر آتے ہیں۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ میں تھے تو نہایت جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے بے دھڑک خانہ کعبہ کا طواف اور وہاں اپنے طریق پر عبادت کیا کرتے