خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 250
خطبات مسرور جلد سوم 250 خطبہ جمعہ 22 اپریل 2005 ء حوصلہ بلند رکھنے کے لئے ، اپنے ساتھیوں کا حوصلہ بلند رکھنے کے لئے ، ان کو صبر اور استقامت اور جرات اور اللہ تعالیٰ پر توکل کی تلقین نہ کی ہو۔اور خود آپ کا عمل یہ تھا کہ اگر تنہا بھی رہ گئے اور دشمنوں میں گھرے ہوئے ہیں تب بھی کبھی کسی قسم کے خوف کا اظہار نہیں کیا۔یه آیت جو میں نے تلاوت کی ہے۔اس میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو اللہ کے پیغام پہنچایا کرتے تھے اور اس سے ڈرتے رہتے تھے اور اللہ کے سوا کسی اور سے نہیں ڈرتے تھے اور اللہ حساب لینے کے لحاظ سے بہت کافی ہے۔یہ اللہ کی سنت ہے جو پہلے بھی گزر چکی ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تو سب سے بڑھ کر اس کے اعلیٰ معیار قائم کرنے والے تھے۔آپ کا عمل اور صحابہ کی گواہیاں اس بات پر شاہد ہیں کہ خدائے واحد کا پیغام پہنچانے میں جس جرات کا مظاہرہ آپ نے کیا وہ بے مثال ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کی محبت میں یہ جرات اور اللہ کے علاوہ کسی اور کا خوف نہ کرنا۔آپ میں اس وقت بھی یہ وصف تھا جب آپ پر ابھی اللہ تعالیٰ کی وحی نازل نہیں ہوئی تھی۔آپ کے اُس زمانے کے معمولات کا ذکر حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ایک روایت میں اس طرح کیا ہے۔آپ بیان کرتی ہیں کہ شروع شروع میں جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی کا نزول شروع ہوا تو وہ رویائے صالحہ کی شکل میں ہوتا تھا یعنی خوا ہیں وغیرہ آیا کرتی تھیں۔کہتی ہیں کہ آپ رات کے وقت یہ پہلی وحی سے پہلے کا واقعہ ہے ) جو کچھ دیکھتے وہ صبح کی روشنی کی طرح ظاہر ہو جاتا تھا۔پھر آپ کو خلوت اچھی لگنے لگی تو آپ غار حرا میں بالکل اکیلے ، کئی کئی راتیں خدا تعالیٰ کی عبادت میں گزارتے۔اور جتنے دن آپ وہاں قیام کرتے آپ اپنا زادراہ ساتھ لے جاتے اور جب یہ ختم ہو جاتا تو حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس واپس تشریف لاتے اور کھانے پینے کا مزید سامان ساتھ لے کر دوبارہ غار حرا میں چلے جاتے اور عبادتوں میں مشغول ہو جاتے۔یہاں تک کہ آپ پر وحی نازل ہوئی اور آپ کے پاس حق آ گیا۔(بخاری -کتاب بدء الوحى ـ باب كيف كان بدء الوحى الى رسول الله ﷺ تو اس میں جہاں آپ کی خدا تعالیٰ سے محبت اور عبادتوں کا پتہ چلتا ہے وہاں آپ کی اس جرات کا بھی پتہ چلتا ہے کہ آپ بغیر کسی خوف اور ڈر کے کئی کئی راتیں غار میں اور جنگل میں،