خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 245
خطبات مسرور جلد سوم 245 خطبہ جمعہ 15 اپریل 2005 ء پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہ بھی بتا دیا کہ عیادت کس طرح کرو۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عیادت کا ایک عمدہ طریق یہ ہے کہ آدمی مریض کے پاس جائے ، اس کی پیشانی یا اس کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ کر اس سے پوچھے کہ اس کی طبیعت کیسی ہے۔اور آپس میں ملنے ملانے کا عمدہ طریق یہ ہے کہ ایک دوسرے سے ملتے وقت مصافحہ کرو تو اس طرح ایک اپنائیت اور محبت کا احساس اور بڑھے گا۔(ترمذى - أبواب الأدب - باب ما جاء في المصافحة ) پھر ایک روایت میں یہ بھی آتا ہے کہ آپ نے صحابہ کو حکم دیا تھا کہ بیماروں کی عیادت کیا کرو۔پس ہم سب کو اس حکم کی بھی تعمیل کرنی چاہیئے۔(بخاری ، کتاب المرضى ، باب وجوب عيادة المريض) پھر آپ نے فرمایا جب کسی مریض کی عیادت کو جاؤ یا کسی کے جنازے میں شرکت کرو تو زبان سے خیر کے کلمات کہو کیونکہ فرشتے تمہاری باتوں پر آمین کہہ رہے ہوتے ہیں۔(صحيح مسلم - كتاب الجنائز - باب مايقول عند المريض والميت) تو وہاں بھی اچھی باتیں کرو۔دعائیں کرو اپنے لئے بھی ، مریض کے لئے بھی۔پھر عیادت کی ترغیب دلاتے ہوئے آپ نے فرمایا جس کی روایت حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص مریض کی عیادت کرتا ہے۔یا اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر کسی بھائی سے ملنے جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے منادی یہ صدا لگاتا ہے کہ تو خوش رہے، تیرا چلنا مبارک ہو، جنت میں تیرا ٹھکانا ہو۔(سنن ابن ماجه -كتاب الجنائز - باب ماجاء في ثواب من عاد مريضًا ) اصل میں تو یہ ایک انسان کا دوسرے انسان کے لئے ہمدردی اور نیک جذبات کے اظہار کا اعلان ہے۔پس ان جذبات کو پھیلانے کی ہر ایک کو کوشش کرنی چاہئے۔تبھی ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ پر چلتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی رضا ، اس کی جنتوں کو حاصل کرنے والے بن سکتے ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جب مریضوں کی عیادت فرماتے تو بعض اوقات بعض نسخے