خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 237 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 237

خطبات مسرور جلد سوم 237 خطبہ جمعہ 15 اپریل 2005 ء حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ میں نے حضرت ابو بکر اور بلال رضی اللہ عنھما کا یہ حال دیکھا تو میں نے آکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس سے آگاہ کیا۔اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا کی۔اے اللہ ! ہمیں مدینہ ، مکہ سے بھی زیادہ محبوب بنا دے اور اس کی آب و ہوا درست فرما دے اور ہمارے لئے اس کے صاع اور مد میں برکت دے دے (یعنی جو پیمانے تھے ) اور اس کی بیماری کو جُحفہ کے علاقے میں منتقل فرما دے، دور کر دے۔الادب المفرد للبخارى - باب ما يقول للمريض) تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے جذبات کو محسوس کرتے ہوئے نہ صرف بیماری سے شفا کی دعا کی بلکہ وطن سے دوری کی وجہ سے جو ان میں بے چینی تھی اس کو دور کرنے کے لئے مدینہ سے محبت پیدا کرنے کی بھی دعا کی۔پھر دعاؤں کے سلسلے میں ہی اُم المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی ایک روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل میں سے کوئی بیمار ہوتا تھا تو اس پر حضور ا کرم صلی اللہ علیہ وسلم معوذات یعنی قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ اور قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِ پڑھ کر دم کیا کرتے تھے۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کہتی ہیں کہ جب آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم اپنی آخری بیماری میں بیمار ہوئے تو میں بھی آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر یہ سورتیں پڑھ کر دم کرتی اور آپ ہی کے ہاتھ آپ کے بدن پر پھیر دیتی تھی کیونکہ آپ کے ہاتھ میرے ہاتھوں سے زیادہ برکت والے تھے۔(مسلم كتاب السلام باب رقية المريض بالمعوذات والنفث) یہ سبق جو آپ نے سکھائے تھے اس کو صحابہؓ بھی استعمال کیا کرتے تھے۔پھر ایک روایت ہے ، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کی اس کے بخار کی حالت میں عیادت کی اور اسے مخاطب کر کے فرمایا : مبارک ہو۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ بخار میری آگ ہے میں اسے اپنے گناہ گار بندے پر اس لئے مسلط کرتا ہوں تا کہ جہنم کی آگ میں سے اس کا جو حصہ ہے وہ اسے اسی دنیا میں مل جائے۔(ترمذى - كتاب الطب- باب التَّداوى بالرَّماد)