خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 226
خطبات مسرور جلد سوم 226 خطبہ جمعہ 8 اپریل 2005ء نے وہ دینار منگوائے، ہاتھ پر رکھ کر گئے اور فرمایا کہ محمد کا اپنے رب پر کیا تو کل ہوا ، اگر خدا سے ملاقات اور دنیا سے رخصت ہوتے وقت یہ دینا ر اس کے پاس ہوں۔پھر حضور نے وہ دینا صدقہ کر دیئے اور اسی روز آپ کی وفات ہوگئی۔(الطبقات الكبرى لابن سعد السيرة النبوية الشريفة ذكر الدنانير التي قسمها رسول الله ﷺ في مرضه الذي مات فيه) تو آپ کو یہ فکر نہیں تھی کہ میرے بعد میرے بیوی بچوں کا کیا ہوگا۔بچے تھے ، نوا سے تھے، ان کے لئے کچھ چھوڑ جاؤں۔اللہ تعالیٰ پر یہ تو کل تھا کہ وہ میرے بعد میری وجہ سے ان کا بھی کفیل ہو گا ، ان کی ضروریات پوری کرتا رہے گا۔اس لئے یہی حکم دیا کہ گھر میں جو کچھ ہے فوری طور پر صدقہ کر دو۔پھر امت کو نصیحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔حضرت عمرؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا اگرتم اللہ پر توکل کرو جس طرح کہ اس پر تو گل کرنے کا حق ہے تو وہ ضرور تمہیں اسی طرح رزق دے گا جس طرح کہ پرندوں کو دیتا ہے۔جو صبح خالی پیٹ نکلتے ہیں اور شام کو پیٹ بھر کر کو ٹتے ہیں۔(ابن ماجہ ابواب الزهد باب التوكل واليقين) تو یہاں آپ نے تو کل کرنے کے حق کی طرف توجہ دلائی ہے۔اللہ تعالیٰ پر توکل کا حق اس وقت ادا ہو سکتا ہے جب اس پر کامل یقین ہو۔اس کی تمام قدرتوں اور اس کی صفات پر مکمل ایمان ہو۔اس کے حکموں کی مکمل تعمیل ہو رہی ہو۔تو جب تقویٰ کی ایسی حالت پیدا ہو جاتی ہے تو اللہ تعالیٰ اپنے وعدوں کے مطابق اپنے بندوں کا کفیل ہو جاتا ہے، ان کی ضروریات پوری کرتا ہے۔پھر ایک روایت میں آتا ہے۔آپ نے امت کو یہ خوشخبری دی۔حضرت حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں سعید بن جبیر کے پاس تھا انہوں نے کہا کہ مجھے ابن عباس نے بتایا کہ آنحضور نے فرمایا میرے سامنے امتیں لائی گئیں۔ان کے ساتھ ان کا نبی بھی تھا۔ہر نبی کے ساتھ ایک گروہ تھا۔ایک نبی کے ساتھ دس لوگ تھے، ایک نبی کے ساتھ پانچ تھے ، ایک نبی کے ساتھ ایک تھا۔پھر میں نے ایک بہت بڑا گروہ دیکھا۔میں نے پوچھا اے جبریل! کیا یہ میری امت