خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 225 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 225

خطبات مسرور جلد سوم 225 خطبہ جمعہ 8 اپریل 2005ء یعنی اللہ ہی پر تو کل کرتے ہوئے اللہ سے یہ دعا مانگتے تھے کہ اے اللہ ! تجھ پر توکل کرتا ہوں اس لئے مجھے ان سب برائیوں سے بچا کے رکھنا۔پھر حضرت عبداللہ سے روایت ہے کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم جب رات کے وقت نماز کے لئے کھڑے ہوتے تو یہ دعا کرتے کہ : ”اے اللہ ! تیرے لئے ہر قسم کی تعریف ہے۔تو زمین و آسمان کا نور ہے۔اور تیرے لئے ہر قسم کی تعریف ہے اور تو زمین و آسمان کو قائم کرنے والا ہے۔تیرے لئے ہر قسم کی تعریف ہے تو زمین و آسمان کا رب ہے اور اس کا بھی جوان کے درمیان ہے۔تو حق ہے اور تیرا وعدہ بھی سچ ہے، حق ہے۔اور تیری لقا بھی حق ہے اور جنت بھی حق ہے اور آگ بھی حق ہے اور قیامت بھی حق ہے۔پھر فرماتے کہ اللہ ! میں نے تیری فرمانبرداری اختیار کی اور تجھ پر ایمان لایا اور تجھ پر توکل کیا اور تیری طرف ہی جھکا اور تیری خاطر ہی جھگڑا کیا اور تجھے ہی حکم بنایا۔پس تو مجھے معاف فرما دے ہر وہ خطا جو مجھ سے سرزد ہوئی اور جو آئندہ ہوگی اور ہر وہ خطا جو پوشیدہ طور پر یا اعلانیہ طور پر کروں ، بخش دے وہ گناہ جومیں نے پہلے کئے اور جو بعد میں کئے اور جو میں نے نہ چھپائے اور جو میں نے ظاہر نہ کئے اور تو ہی میرا معبود ہے اور تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔(ترمذی ابواب الدعوات باب ما جاء ما يقول إذا قام من الليل) گویا آپ کی ہر دعا میں اس بات کا ضرور اظہار ہوتا تھا کہ میری ہر حرکت اور ہرسکون ہر کام تجھ پر تو کل کرتے ہوئے ہی ہے۔اور تیری ذات پر یقین اور توکل کے بغیر میری کوئی زندگی نہیں ہے۔اور سب کچھ جو میری بہتری اور بھلائی میں ہے تجھ پر تو کل کرتے ہوئے تجھ سے ہی مانگتا ہوں۔پھر دیکھیں اپنی آخری بیماری میں بھی کس طرح تو کل کا اظہار کیا۔حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میرے پاس آپ نے سات یا آٹھ دینار رکھوائے۔آخری بیماری میں فرمایا اے عائشہ! وہ سونا جو تمہارے پاس تھا کیا ہوا؟ انہوں نے کہا وہ میرے پاس ہے۔آپ نے فرمایا وہ صدقہ کر دو۔پھر حضرت عائشہ کسی کام میں مصروف ہو گئیں۔پھر ہوش آئی تو پوچھا کہ کیا صدقہ کر دیا ہے؟ انہوں نے کہا ابھی نہیں کیا۔پھر آپ نے ان کو بھیجا کہ لے کے آؤ۔آپ