خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 224
خطبات مسرور جلد سوم 224 خطبہ جمعہ 8 اپریل 2005ء کے لئے دعا بھی کرتے اور پھر تو کل کا اظہار بھی کرتے۔پھر حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم دعامانگا کرتے تھے کہ اے اللہ ! میں تیری فرمانبرداری کرتا ہوں تجھ پر ایمان لاتا ہوں، تجھ پر توکل کرتا ہوں، تیری طرف جھکتا ہوں، تیری مدد سے دشمن کا مقابلہ کرتا ہوں۔اے میرے اللہ ! میں تیری عزت کی پناہ چاہتا ہوں۔تیرے سوا اور کوئی معبود نہیں۔تو مجھے گمراہی سے بچا۔تو زندہ ہے تیرے سوا کسی کو بقا نہیں۔جن وانس سب کے لئے فنا مقدر ہے۔(مسلم - كتاب الذكر - باب فى التعوذ من سوء القضاء ودرك الشقاء وغيره) پھر ایک دعا کا اس طرح ذکر آتا ہے کہ حضرت جابر سے روایت ہے کہ جب آپ رکوع میں جاتے تو یہ دعا کرتے تھے کہ اللَّهُمَّ لَكَ رَكَعْتُ وَبِكَ آمَنْتُ وَلَكَ أَسْلَمْتُ وَعَلَيْكَ تَوَكَّلْتُ أَنْتَ رَبِّي خَشَعَ سَمْعِى وَبَصَرِى وَدَمِنْ وَلَحْمِلْ وَعَظْمِي وَعَصْبِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِيْنَ کہ اے اللہ میں نے تیرے لئے رکوع کیا میں تجھ پر ایمان لایا، تیرے لئے مسلمان ہوا، اور تجھ پر توکل کیا۔تو ہی میرا رب ہے۔میری سماعت اور بصارت، خون اور گوشت اور ہڈیاں اور اعصاب اللہ تعالیٰ کے لئے ہی ہیں۔جو تمام جہانوں کا رب ہے۔(النسائي - كتاب التطبيق – باب نوع آخر) حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جب گھر سے نکلتے تو یہ دعا پڑھا کرتے تھے کہ: "بِسْمِ اللهِ تَوَكَّلْتُ عَلَى اللَّهِ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوْذُبِكَ اَنْ اضِلَّ أَوْ أَضَلَّ أَوْ أَزِلَّ أَوْ أَزَلَّ أَوْ أَظْلِمَ أَوْ أَظْلَمَ اَوْ اَجْهَلَ أَوْ يُجْهَلَ عَلَيَّ“ یعنی اللہ کے نام کے ساتھ اللہ تعالیٰ ہی پہ تو کل کرتا ہوں۔اے میرے اللہ میں گمراہ ہونے سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔اسی طرح گمراہ کئے جانے سے بھی۔پھسلنے اور پھیلائے جانے سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔اور پناہ مانگتا ہوں اس بات سے کہ میں کسی پر ظلم کروں یا کوئی مجھ پر ظلم کرے۔اور اس بات سے بھی کہ میں کسی سے جہالت سے پیش آؤں اور اُس پر زیادتی کروں یا کوئی مجھ سے جہالت سے پیش آۓ۔(ترمذی ابواب الدعوات باب منه دعاء : بسم الله توكلت على الله)