خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 223
خطبات مسرور جلد سوم 223 خطبہ جمعہ 8 اپریل 2005 ء کی یا رسول اللہ ! ہمارے ہاں کچھ کھانا تیار ہے بس آپ تشریف لے آئیں اور ایک دو اور آدمی راہ لے آئیں۔آپ نے دریافت فرمایا کھانا کتنا ہے؟ میں نے صورت حال بیان کر دی تو آپ نے فرمایا کہ بہت ہے اور عمدہ ہے، كَثِیر طیب۔جاؤ اور اپنی بیوی سے کہہ دو کہ اس وقت تک ہنڈیا نہ اتارے اور تنور میں روٹی نہ لگائے جب تک میں نہ آ جاؤں۔پھر آپ نے اعلان کر دیا کہ سب چلو۔تمام مہاجرین اور انصار چل پڑے۔وہ اپنی بیوی کے پاس پہنچے اور کہا تیرا بھلا ہو حضور تو سب صحابہ کے ساتھ تشریف لا رہے ہیں۔اس نے کہا حضور نے تم سے صورت حال پوچھی تھی ؟ انہوں نے کہا ہاں پوچھی تھی اور میں نے سب حالات بتا دیئے تھے۔بہر حال حضور تشریف لائے اور آپ نے صحابہ سے فرمایا سب گھر میں آ جاؤ لیکن شور شرابہ نہیں کرنا۔چنانچہ آپ روٹی اور سالن ڈال کر باری باری صحابہ کو دیتے جاتے۔جبکہ آپ نے ہنڈیا اور آٹے کو ڈھانپ کے رکھا۔اس کا ڈھکنا اٹھایا نہیں۔اسی طرح آپ روٹی تقسیم فرماتے یہاں تک کہ سب نے پیٹ بھر کے کھانا کھایا اور پھر بھی کھانا باقی بچ گیا اور آپ نے کہا خود بھی کھاؤ اور لوگوں کو بھی بھیجواؤ۔کیونکہ کافی عرصے سے لوگوں کو بھوک برداشت کرنی پڑ رہی ہے۔(بخارى كتاب المغازى - باب غزوة الخندق ) پس یہ آپ کا اللہ تعالیٰ پر کامل تو کل ہی تھا جس کی وجہ سے یہ یقین تھا کہ آپ کی دعا کی برکت سے اعجاز دکھایا جائے گا۔تھوڑے سے اسباب مہیا ہونے کی دیر تھی کہ سارے شہر نے ایک بکری کے بچے اور چند کلو آٹے سے پیٹ بھر کر کھانا کھالیا۔جب آپ کے پاس کچھ اسباب ہو جاتے تھے تو آپ ان کو استعمال کرتے تھے لیکن تو کل ہمیشہ اللہ تعالیٰ پر رکھتے تھے اور اللہ تعالیٰ کے حضور دعا کیا کرتے تھے۔آپ کی دعاؤں کی چند مثالیں میں یہاں پیش کرتا ہوں۔حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم جب رات کی نماز سے فارغ ہو جاتے تو یہ دعا کرتے کہ اے اللہ ! یہ میری دعا ہے اور تو اسے قبول کرنے والا ہے اور اے اللہ ! میری یہ کوشش ہے اور تو کل تجھ پر ہی ہے۔(ترمذی کتاب الدعوات باب ما جاء مايقول اذا قام من الليل الى الصلاة ) جو بھی ان کے بعد دعائیں مانگتے ان کی قبولیت