خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 222
خطبات مسرور جلد سوم 222 خطبہ جمعہ 8 اپریل 2005 ء مقابلے کے لئے اور تھوڑی تعداد میں ہونے کے باوجود اتنی بڑی فوج کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہو گئے تھے۔اور یہ حکمت عملی تھی کہ تھوڑی تعداد ہے اس لئے شہر کے اندر رہ کر مقابلہ کیا جائے۔اور یہ بھی اللہ تعالیٰ کا فضل تھا۔اللہ تعالیٰ نے پہلے آگاہ بھی کیا ہوا تھا۔مسلمانوں کے ایمان میں مضبوطی بھی آچکی تھی کثرت کو دیکھ کر مسلمان پریشان نہیں ہوئے بلکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے تو کل نے تو مسلمانوں کو اس وقت تو کل میں اور بھی بڑھا دیا تھا۔اور مخالفین اور منافقین کی باتیں سننے کے با وجود ان کے حوصلے پست نہیں ہوئے تھے۔پھر دیکھیں ثابت قدمی اور توکل کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ نے بھی کیسا انتظام کیا کہ آندھی اور طوفان نے کفار کو خوفزدہ کر دیا اور وہ بھاگ گئے اور بھاگے بھی ایسی افراتفری میں کہ بہت سارا اپنا سامان خوراک اور دوسرا سامان چھوڑ کر چلے گئے جو مسلمانوں کے کام آیا۔تو یہ تھا اللہ تعالیٰ پر تو کل کا نتیجہ۔انہیں دنوں میں جب اس جنگ کی تیاری ہو رہی تھی ، خندق کھودی جارہی تھی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے تو کل اور معجزے کی ایک اور مثال اس روایت میں ملتی ہے۔حضرت جابر کہتے ہیں کہ جب ہم خندق کھودرہے تھے تو ایک سخت چٹان آئی اور ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! یہ چٹان آگئی ہے۔آپ نے فرمایا میں آتا ہوں۔اور پھر آپ اٹھے اور اس حال میں کہ آپ کے پیٹ پر پتھر بندھے ہوئے تھے کیونکہ ہم نے تین دنوں سے کچھ بھی نہ کھایا تھا ، رسول کریم نے کدال پکڑی اور چٹان پر ضرب لگائی تو چٹان ریزہ ریزہ ہوگئی۔میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! مجھے اجازت دیں کہ میں گھر سے ہو آؤں۔چنانچہ آپ نے اجازت دی۔حضرت جابڑا اپنے گھر آئے ، اپنی بیوی سے کہا کہ میں نے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ایسی حالت دیکھی ہے کہ جس پر میں صبر نہیں کرسکتا۔کیا تیرے پاس کھانے کے لئے کچھ ہے؟۔تو اس نے کہا میرے پاس کچھ جو اور ایک بکری کا بچہ ہے۔میں نے بکری کے بچے کو ذبح کیا اور میری بیوی نے جو پیسے یہاں تک کہ ہم نے گوشت ہنڈیا میں ڈال دیا۔اور میں رسول کریم ﷺ کے پاس اس حالت میں پہنچا کہ ہنڈیا پکنے کو تیار تھی۔میں نے عرض