خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 218
خطبات مسرور جلد سوم 218 خطبہ جمعہ 8 اپریل 2005ء کہ یا رسول اللہ میں اپنی جان کے لئے نہیں گھبرا رہا اگر میں مارا جاؤں تو میں بس اکیلی جان ہوں لیکن خدانخواستہ اگر آپ پر کوئی آنچ آئے تو پھر تو گویا ساری امت کی امت ہی مٹ گئی۔تو آنحضور ﷺ نے اس پر فرمایا کہ گھبراؤ نہیں اللہ ہمارے ساتھ ہے۔پھر جب تین دن کے بعد غار سے نکلے اور مدینہ کی طرف سفر شروع ہوا تو اس وقت بھی تو کل کی ایک اور شان نظر آتی ہے۔حضرت ابو بکر صدیق نے دیکھا کہ ایک شخص گھوڑا دوڑائے ہوئے ان کے پیچھے آ رہا ہے۔اس پر حضرت ابو بکر نے پھر گھبرا کر کہا یا رسول اللہ ! کوئی ہمارا تعاقب کر رہا ہے۔آپ نے فرمایا کوئی فکر نہ کرو اللہ ہمارے ساتھ ہے۔کیا اللہ پر تو کل تھا۔آپ کو یقین تھا، خدا پر توکل تھا کہ ہم اس کی خاطر نکلے ہیں اس کے حکم سے نکلے ہیں وہ خود ہی ہماری حفاظت فرمائے گا۔چنانچہ سراقہ خود اس واقعہ کو بیان کرتا ہے کہ میں ان کے تعاقب میں نکلا اور جب میں قریب پہنچ گیا تو گھوڑے نے ٹھو کر کھائی اور میں زمین پر گر گیا۔پھر تیر چلا کے فال نکالی تو فال اس کے اس تعاقب کے خلاف نکلی۔لیکن پھر بھی کیونکہ لالچ تھا، کفار نے اعلان کیا ہوا تھا جو پکڑ کے لائے گا اس کو سو اونٹ ملیں گے۔تو یہ جو سو سو اونٹوں کا لالچ تھاوہ اس کو اس بات پر مجبور کر رہا تھا کہ وہ فال کو تسلیم نہ کرے اور تعاقب کرے۔اس نے پھر تعاقب شروع کیا۔پھر گھوڑے نے ٹھوکر کھائی اور پھر گر گیا۔یہ کہتا ہے کہ میں اتنی قریب پہنچ گیا تھا کہ آپ قرآن کریم پڑھ رہے تھے اور میں آپ کی تلاوت کی آواز سن رہا تھا۔اور جب یہ صورتحال تھی تو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ بار بار مڑ کر پیچھے دیکھتے تھے لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دفعہ بھی مڑ کر پیچھے نہیں دیکھا۔آپ کو تو اپنے خدا پر پورا بھروسہ تھا، پورا یقین تھا، کامل تو کل تھا کہ وہ حفاظت فرمائے گا۔اس لئے محسوس ہی نہ کیا کہ پیچھے مڑ کر دیکھیں۔بہر حال جب اس نے پھر فال نکالی تو پھر اس کے خلاف آئی۔پھر اس نے تعاقب کرنا چھوڑ دیا، لیکن آپ کو آواز دے کر یہ کہا کہ میں اس نیست سے آیا تھا اور میں سمجھتا ہوں کہ میرا تعاقب غلط تھا اور میں واپس جا رہا ہوں۔لیکن اس کی یہ درخواست تھی۔دیکھیں کہاں تو وہ شخص جو پکڑنے آیا تھا اور کہاں یہ معاملہ کہ جب وہ اپنا سارا قصہ