خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 217
خطبات مسرور جلد سوم 217 خطبہ جمعہ 8 /اپریل 2005ء پھر ہجرت کے وقت دیکھیں خدائی وعدوں پر یقین اور توکل کی وجہ سے دشمن کے سامنے سے نکل گئے اور کسی قسم کا خوف اور ڈر آپ کی طبیعت میں پیدا نہیں ہوا۔یہ واقعہ اس طرح بیان کیا جاتا ہے کہ قریش کے مختلف قبائل سے تعلق رکھنے والے ان کے بڑے رؤساء آپ کے مکان کے ارد گرد جمع ہو گئے اور مکان کو گھیرے میں لے لیا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کا نام لے کر اپنے گھر سے نکلے حالانکہ سارے سردار اور قبائل کے لیڈر آپ کے دروازے کے سامنے کھڑے تھے لیکن ان کے ذہن میں یہ کبھی خیال بھی نہیں آسکتا تھا اور کچھ اللہ تعالیٰ نے بھی ان کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا کہ اس طرح اتنی جرات سے ہمارے سامنے سے نکل سکتے ہیں۔بہر حال آپ اپنی جگہ حضرت علی کو اپنے بستر پر لٹا کر وہاں سے نکلے اور پھر تو کل یہ بھی تھا اوراللہ تعالیٰ کی ذات پر یقین تھا کہ حضرت علی کو فرمایا کہ تم فکر نہ کرو میرے اس بستر میں لیٹ جاؤ۔لیکن تمہیں یہ ضمانت ہے کہ تمہیں کسی قسم کا کوئی نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔پھر جب آپ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ساتھ غار ثور میں پہنچے تو وہاں جا کر بھی تو تکل کی کیا اعلیٰ مثال ہمیں نظر آتی ہے کہ جب دشمن کو گھر سے یہ پتہ لگا کہ آپ تو جاچکے ہیں۔اور آپ کے بستر پر حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ لیٹے ہوئے ہیں تو اس وقت بڑے پریشان ہوئے اور حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے گھر میں بھی گئے وہاں عورتوں سے زیادتیاں بھی کیں ، سختیاں بھی کیں۔پھر یہ لوگ جب آپ کی تلاش میں غار کے بالکل قریب پہنچ گئے اور اتنے قریب پہنچ گئے کہ ان کے قدم بھی نظر آنے لگ گئے تھے، ان کی باتیں بھی سنائی دینے لگ گئی تھیں اور حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان کی یہ باتیں سن کر پریشان ہو رہے تھے۔لیکن یہاں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے تو کل کی ایک اورشان نظر آتی ہے۔آپ حضرت ابوبکر صدیق کو فرماتے ہیں کہ پریشان نہ ہو۔فرمایا لَا تَحْزَنْ إِنَّ اللَّهَ مَعَنَا ﴾ (التوبة: 40) کہ گھبراؤ نہیں اللہ ہمارے ساتھ ہے۔پھر فرمایا کہ اے ابو بکر ! تم ان دو شخصوں کے متعلق کیا گمان کرتے ہو جن کے ساتھ تیسرا خدا ہے۔ایک دوسری روایت میں یہ بھی آتا ہے کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا