خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 216
خطبات مسرور جلد سوم 216 خطبہ جمعہ 8 اپریل 2005 ء آپ نے کہا تم نے اس آدمی کی یہ رقم دینی تھی وہ تم ادا کر دو۔اس نے کہا ٹھہریں میں ابھی رقم لے کے آتا ہوں۔دیکھنے والے کہتے ہیں کہ اس وقت ابو جہل کا رنگ بالکل فق ہو رہا تھا۔کہا محمد اٹھہرو میں ابھی اس کی رقم لاتا ہوں۔چنانچہ وہ رقم لے کر آیا اور اسی وقت اس شخص کے حوالے کر دی۔اور وہ بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا شکریہ ادا کر کے چلا گیا۔پھر وہ قریش کی مجلس میں دوبارہ گیا اور ان کا بھی شکر یہ ادا کیا کہ تم نے مجھے صحیح آدمی کا پتہ بتایا تھا جس کی وجہ سے مجھے رقم مل گئی ہے۔اس پر وہ جو سارے رؤسا بیٹھے تھے بڑے پریشان ہوئے۔پھر جب وہ آدمی جس کو پیچھے بھیجا تھا آیا تو اس سے پوچھا کہ کیا ہوا تھا۔اس نے یہ سارا قصہ سنایا تو یہ سب لوگ بڑے حیران تھے۔تھوڑی دیر بعد ابو جہل خود بھی وہاں اس مجلس میں آ گیا تو اس کو دیکھتے ہی لوگوں نے پوچھا یہ تم نے کیا کیا کہ فوری طور پر اندر گئے اور ساری رقم واپس کر دی۔اس قدر تم محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) سے ڈر گئے تھے۔اس نے کہا خدا کی قسم ! جب میں نے محمد کو اپنے دروازے پر دیکھا تو مجھے یوں نظر آیا کہ اس کے ساتھ لگا ہوا ایک مست اور غضب ناک اونٹ کھڑا ہے اور میں سمجھتا تھا کہ میں نے اگر ذرا بھی چون و چرا کیا تو وہ اونٹ مجھے چیا جائے گا۔(بحواله سيرت خاتم النبيين صفحه 162-163- السيرة النبوية لأبن هشام صفحه 281 زير أمر الأراشي الذي باع اباجهل ابله) تو دیکھیں، جیسا کہ میں نے کہا، کفار نے تو اس نیت سے کہا تھا کہ آپ انکار کریں اور آپ کی سبکی ہوا اور باہر کے لوگوں پر آپ کا اثر نہ ہو۔لیکن آپ کو اپنے خدا پر کامل تو کل تھا۔اس لئے فوری طور پر اٹھے اور ساتھ چل دیئے۔یہ نہ دیکھا کہ وہ کتنا بڑا سردار ہے اور کتنا میرا مخالف ہے۔پھر کفار کا یہ خیال بھی شاید ہو کہ اگر چلے بھی گئے تو ابو جہل آپ سے سختی سے پیش آئے گا اور اس وقت اس شخص کے سامنے آپ کی حیثیت ظاہر ہو جائے گی۔لیکن خدا تعالیٰ نے اپنے وعدے کے مطابق اس تو کل کے نتیجہ میں کیسا انتظام فرمایا کہ وہ مجبور ہو گیا۔ایسے حالات پیدا کئے ، اس کو ایسا خوفناک قسم کا اونٹ آپ کے پیچھے نظر آنے لگا جس کی وجہ سے وہ فوری طور پر گیا اور ساری رقم ادا کر دی۔