خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 195 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 195

خطبات مسرور جلد سوم 195 (12) خطبہ جمعہ یکم اپریل 2005ء آنحضرت صلی اللہ وسلم کا خلق عظیم شکر گزاری خطبہ جمعہ فرموده یکم را پریل 2005ء بمقام مسجد بیت الفتوح مورڈن ،لندن۔تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات میں وہ تمام اخلاق جمع تھے جن کا انسانی سوچ احاطہ کر سکتی ہے اور آپ کی ذات میں وہ تمام صفات جمع تھیں جن کی جھلک اللہ تعالیٰ کے خاص بندوں اور انبیاء میں نظر آتی ہے یا آسکتی ہے۔ان میں سے ایک خلق شکر گزاری کا بھی ہے۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بارے میں فرمایا کہ شاكرًا لِانْعُمِه (النحل: 122 ) یعنی وہ اللہ تعالیٰ کے انعاموں کا شکر گزار تھا اور حضرت نوح کے بارے میں فرمایا کہ إِنَّهُ كَانَ عَبْدًا شَكُورًا (بنی اسرائیل: 4) یعنی وہ یقیناً شکر گزار بندہ تھا۔اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ سند صرف ان دو انبیاء کو ملی ہے اور کوئی اس کا مقابلہ نہیں کرسکتا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں تو فرمایا ہے کہ آپ میں تو تمام انبیاء کی خوبیاں اکٹھی کر دی گئی ہیں بلکہ آپ آفضل الرسل ہیں یعنی تمام رسولوں سے بڑھ کر ہیں۔ان تمام خوبیوں ، ان تمام اخلاق، جو بھی خلق ہیں، اور ان تمام صفات کی انتہا دیکھنی ہو تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات میں دیکھو۔آپ کے بارے میں فرمایا وَلكِنْ رَّسُوْلَ اللهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّين ﴾ (الاحزاب: 41) آپ کا مقام اللہ تعالیٰ کے سب سے قریب ہے۔ان تمام اخلاق اور صفات کے اعلیٰ معیار جو پہلے