خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 190 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 190

خطبات مسرور جلد سوم 190 خطبہ جمعہ 25 / مارچ 2005ء اکثر صحابہ اور خصوصاً نو جوان صحابہ جو بدر کی جنگ میں شامل نہیں ہوئے تھے ان میں ایک جوش تھا، شہادت کا جوش تھا اور بڑے بیتاب ہو رہے تھے۔انہوں نے یہ اصرار کیا کہ نہیں کھلے میدان میں جا کر مقابلہ کرنا چاہئے۔چنانچہ ان کے جوش کو دیکھ کر اور اکثریت کی رائے کو دیکھ کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ٹھیک ہے، باہر نکل کر مقابلہ کرتے ہیں۔پھر آپ نے مسلمانوں کو تحریک فرمائی کہ غزوہ میں شامل ہوں اور جہاد فی سبیل اللہ میں شامل ہوں اور پھر آپ تیاری کے لئے اپنے گھر تشریف لے گئے۔اس دوران میں صحابہ نے سمجھایا اور کچھ لوگوں کو خود بھی سمجھ آئی تو نو جوانوں میں سے بھی اکثریت نے اپنی رائے بدل لی کہ نہیں، آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے کے مطابق ہی ہمیں کرنا چاہئے اور مدینے کے اندر رہ کر ہی مقابلہ کرنا چاہئے۔تو جب آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم تیار ہو کر جنگی لباس پہن کر باہر تشریف لائے تو سعد بن معاذ " جو انصار کے سردار تھے انہوں نے اپنی غلطی محسوس کرتے ہوئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش ہو کر کہا کہ حضور کا فیصلہ ہی ٹھیک ہے اور ہم اپنے فیصلے پر شرمندہ ہیں ، یہ ہمیں نہیں کہنا چاہئے تھا۔تو یہیں مدینے کے اندر رہ کر مقابلہ کرتے ہیں۔اس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اب نہیں۔خدا کے نبی کی شان سے یہ بعید ہے کہ وہ ہتھیار لگا کر پھر انہیں اتار دے۔قبل اس کے کہ خدا کوئی فیصلہ فرمائے۔پس اب اللہ کا نام لے کر چلو اور اگر تم نے صبر سے کام لیا تو یقین رکھو کہ اللہ تعالیٰ کی نصرت تمہارے ساتھ ہوگی۔بحوا (طبقات ابن سعد ،زرقانی، سیرت ابن ہشام اور بخاری واله سيرت خاتم النبيين از حضرت مرزا بشیر احمد صاحب - صفحه 484 تا 486۔) تو یہاں دیکھیں باوجود اپنی رائے مختلف ہونے کے بعض کبار صحابہ کی رائے مختلف ہونے کے، اکثریت کی رائے کا، نو جوانوں کی رائے کا احترام کیا اور پھر نو جوانوں کی رائے بدلنے کے بعد فرما دیا یہ بھی تو کل کی ایک اعلیٰ مثال تھی کہ نبی کی شان کے یہ خلاف ہے کہ آگے بڑھ کر پیچھے ہے۔لیکن فرمایا کہ اگر تم لوگ صبر سے کام لو گے تو انشاء اللہ تعالیٰ اللہ کی مدد اور تائید بھی تمہارے ساتھ ہوگی۔لیکن اس ہدایت کے باوجود بے صبری کی وجہ سے واضح طور پر جو جیتی ہوئی