خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 189 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 189

خطبات مسرور جلد سوم 189 خطبہ جمعہ 25 / مارچ 2005ء قدریں بحال کرنا ہوتا ہے۔پھر دیکھیں اُحد کا واقعہ ہے جس میں تو کل علی اللہ کا ایک عظیم نمونہ ظاہر ہوتا ہے۔اس کی تفصیل تاریخ میں یوں بیان ہوئی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو جمع کر کے ان سے قریش کے اس حملہ سے متعلق مشورہ مانگا کہ آیا مدینے میں ہی ٹھہرا جاوے یا باہر نکل کر مقابلہ کیا جائے۔اس مشورے میں عبد اللہ بن ابی بن سلول بھی شریک تھا۔دراصل تو منافق تھا مگر بدر کے بعد بظاہر مسلمان ہو چکا تھا۔اور یہ پہلا موقع تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے مشورے میں شرکت کی دعوت دی۔مشورے سے قبل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش کے حملہ اور ان کے خونی ارادوں کا ذکر فرمایا اور فرمایا کہ آج رات میں نے خواب میں ایک گائے دیکھی ہے نیز میں نے دیکھا کہ میری تلوار کا سرٹوٹ گیا ہے۔اور پھر میں نے دیکھا کہ وہ گائے ذبح کی جا رہی ہے اور میں نے دیکھا کہ میں نے اپنا ہاتھ ایک محفوظ اور مضبوط زرہ کے اندر ڈالا ہے۔اور ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ فرمایا کہ میں نے دیکھا کہ ایک مینڈھا ہے جس کی پیٹھ پر میں سوار ہوں۔تو صحابہ نے عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ نے اس کی کیا تعبیر فرمائی ہے۔تو آپ نے فرمایا کہ گائے کے ذبح ہونے سے تو میں سمجھتا ہوں کہ میرے صحابہ میں سے بعض شہید ہوں گے۔اور میری تلوار کے کنارے ٹوٹنے سے یہ مراد ہے کہ میرے عزیزوں میں سے کسی کی شہادت ہوگی یا شاید مجھے بھی کوئی نقصان پہنچے۔اور زرہ کے اندر ہاتھ ڈالنے سے میں یہ سمجھتا ہوں کہ اس حملے کے مقابلے کے لئے ہمیں مدینہ کے اندر ٹھہر نا زیادہ مناسب ہوگا۔مدینہ کے اندر ٹھہر کر مقابلہ کرنا چاہئے۔اور مینڈھے پر سوار ہونے والی خواب کی آپ نے یہ تعبیر فرمائی کہ اس سے کفار کے لشکر کا سردار یعنی علمبر دار مراد ہے جو مسلمانوں کے ہاتھوں سے مارا جائے گا۔اس کے بعد آپ نے صحابہ سے مشورہ طلب فرمایا تو بعض اکابر صحابہ نے حالات کی مشکل کو سمجھ کر ، سوچ کر اور شاید کسی قدر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خواب سے متاثر ہو کر یہ مشورہ دیا کہ مدینے میں ٹھہر کرہی مقابلہ کرنا چاہئے۔اور عبداللہ بن ابی بن سلول نے بھی یہی مشورہ دیا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس رائے کو پسند فرمایا اور یہ فرمایا کہ یہی بہتر ہے کہ ہم مدینے کے اندر رہ کر مقابلہ کریں لیکن