خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 188 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 188

خطبات مسرور جلد سوم 188 خطبہ جمعہ 25 / مارچ 2005ء اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تمہیں قریش کے معاہدہ کی خلاف ورزی کا علم نہیں ہوا۔راوی کہتے ہیں پھر آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے دیہاتی علاقوں میں رہنے والے اور مدینے کے ارد گرد کی بستیوں میں رہنے والے مسلمانوں کو اس پیغام کے ساتھ بلا بھیجا کہ جو شخص اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہے وہ رمضان کے مہینہ میں مدینہ آ جائے۔اور یہ پیغام آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوبکر اور حضرت عمرؓ سے مکہ والوں پر حملہ کرنے کے بارے میں مشورے کے بعد بھیجا تھا۔حضرت ابو بکر نے تو حملہ نہ کرنے کا مشورہ دیا تھا اور یہ عرض کی تھی کہ یا رسول اللہ ! وہ آپ کی قوم ہیں۔مگر حضرت عمرؓ نے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تائید کرتے ہوئے آپ کو مشورہ دیا اور عرض کی کہ وہ کفر کا سر چشمہ ہیں۔انہوں نے کہا کہ آپ ساحر ہیں۔آپ جھوٹے ہیں، (آنحضر نہ صلی اللہ علیہ وسلم پر کفار یہ الزام لگاتے تھے۔نعوذ باللہ ) حضرت عمرؓ نے اس موقع پر ان تمام بری باتوں کا ذکر کیا جو کفار مکہ کیا کرتے تھے۔اور پھر انہوں نے کہا کہ اللہ کی قسم ! عرب اس وقت تک ماتحتی قبول نہیں کریں گے جب تک اہل مکہ ماتحتی قبول نہ کر لیں۔اس موقع پر آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا کہ حضرت ابو بکر کی غلط رائے ہے۔ان کی رائے کی بہت قدر کیا کرتے تھے۔فرمایا کہ ابوبکر حضرت ابراہیم علیہ السلام کی طرح ہیں۔وہ اللہ تعالیٰ کے معاملات میں بہت زیادہ نرم مزاج تھے۔اور عمر حضرت نوح کی طرح ہیں اور نوح اللہ تعالیٰ کے معاملات میں چٹان کی طرح سخت تھے۔اور اس وقت میں عمر کا مشورہ قبول کرتا ہوں۔“ 66 (السيرة الحلبية - باب ذكر مغازيه - فتح مكة شرفها الله تعالى تو موقع محل کے لحاظ سے آپ مشورہ کو اہمیت دیا کرتے تھے کیونکہ آپ نے دیکھا کہ اب بختی میں ہی انسانیت کی بقا ہے اس لئے آپ نے لشکر کشی کا حکم فرمایا۔اس میں ان لوگوں کے لئے بھی ایک سبق ہے، نصیحت ہے جو خلیفہ وقت کے بعض فیصلوں پر پہلے خلفاء کا یا کسی پہلے موقع پر دیئے گئے کسی فیصلے کا حوالہ دے کر کہتے ہیں کہ کیونکہ پہلے یہ ہو چکا ہے اس لئے اب بھی اس طرح ہونا چاہئے۔تو یہ وقت وقت کے مطابق، حالات کے مطابق فیصلے ہوا کرتے ہیں۔اور کبھی کوئی فیصلہ کسی سے بغض عناد اور کینے کی وجہ سے نہیں ہوتا۔اصل مقصد اصلاح اور انسانیت کی