خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 175
خطبات مسرور جلد سوم 175 خطبہ جمعہ 18 / مارچ 2005ء اختیار نہ کرنا اور کرم اور جود اور بخشش کا دروازہ کھولنا۔اور دولت کو ذریعہ نفس پروری نہ ٹھہرانا اور حکومت کو آلہ ظلم و تعدی نہ بنانا، یہ سب اخلاق ایسے ہیں کہ جن کے ثبوت کے لئے صاحب دولت اور صاحب طاقت ہونا شرط ہے۔اور اسی وقت بپایہ ثبوت پہنچتے ہیں کہ جب انسان کے لئے دولت اور اقتدار دونوں میسر ہوں“۔فرمایا: ” اور اس بارے میں سب سے اول قدم حضرت خاتم الرسل، محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے۔کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر کمال وضاحت سے یہ دونوں حالتیں وارد ہو گئیں۔اور ایسی ترتیب سے آئیں کہ جس سے تمام اخلاق فاضلہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مثل آفتاب کے روشن ہو گئے۔اور مضمون إِنَّكَ لَعَلى خُلُقٍ عَظِیم کا بپا یہ ثابت پہنچ گیا۔اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کا دونوں طور پر علی وجہ الکمال ثابت ہونا تمام انبیاء کے اخلاق کو ثابت کرتا ہے۔کیونکہ آنجناب نے ان کی نبوت اور ان کی کتابوں کو تصدیق کیا۔اور ان کا مقرب اللہ ہونا ظاہر کر دیا ہے۔“ (براہین احمدیہ ہر چہار حصص ، روحانی خزائن جلد 1 صفحه 283 تا 285 بقیہ حاشیہ نمبر 11) 谢谢谢