خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 174 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 174

خطبات مسرور جلد سوم 174 خطبہ جمعہ 18 / مارچ 2005ء اخلاق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کہ وہ صد ہا مواقع میں اچھی طرح کھل گئے اور امتحان کئے گئے اور ان کی صداقت آفتاب کی طرح روشن ہو گئی۔اور جو اخلاق کرم اور جو د اور سخاوت اور ایثار اور فتوت اور شجاعت اور زہد اور قناعت اور اعراض عن الدنیا کے متعلق تھے وہ بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات مبارک میں ایسے روشن اور تاباں اور درخشاں ہوئے کہ میسیج کیا بلکہ دنیا میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کوئی بھی ایسا نبی نہیں گزرا جس کے اخلاق ایسی وضاحت تامہ سے روشن ہو گئے ہوں“۔آنحضرت کو دنیا سے کوئی غرض نہیں تھی۔اور یہ ایسے اخلاق تھے جو آپ میں تمام پہلے نبیوں سے بڑھ کر تھے۔کیونکہ خدائے تعالیٰ نے بے شمار خزائن کے دروازے آنحضرت پر کھول دیئے سو آنجناب نے ان سب کو خدا کی راہ میں خرچ کیا اور کسی نوع کی تن پروری میں ایک جبہ بھی خرچ نہ ہوا۔نہ کوئی عمارت بنائی نہ کوئی بارگاہ تیار ہوئی۔بلکہ ایک چھوٹے سے کچے کو ٹھے میں جس کو غریب لوگوں کے کوٹھوں پر کچھ بھی ترجیح نہ تھی اپنی ساری عمر بسر کی۔بدی کرنے والوں سے نیکی کر کے دکھلائی اور وہ جو دل آزار تھے ان کو ان کی مصیبت کے وقت اپنے مال سے خوشی پہنچائی۔سونے کے لئے اکثر زمین پر بستر اور رہنے کے لئے ایک چھوٹا سا جھونپڑا اور کھانے کے لئے نان جو یا فاقہ اختیار کیا۔دنیا کی دولتیں بکثرت ان کو دی گئیں پر آنحضرت نے اپنے پاک ہاتھوں کو دنیا سے ذرا آلودہ نہ کیا۔اور ہمیشہ فقر کو تو نگری پر اور مسکینی کو امیری پر اختیار رکھا۔اور اس دن سے جو ظہور فرمایا تا اس دن تک جو اپنے رفیق اعلیٰ سے جاملے بجز اپنے مولا کریم کے کسی کو کچھ چیز نہ سمجھا۔فرمایا: ” غرض جو د اور سخاوت اور زہد اور قناعت اور مردی اور شجاعت اور محبت الہیہ کے متعلق جو جو اخلاق فاضلہ ہیں وہ بھی خداوند کریم نے حضرت خاتم الانبیاء میں ایسے ظاہر کئے کہ جن کی مثل نہ کبھی دنیا میں ظاہر ہوئی اور نہ آئندہ ظاہر ہوگی۔(براہین احمدیہ ہر چہار حصص - روحانی خزائن جلد 1 صفحه 288 تا 291 بقیہحاشیہ نمبر 11) پھر آپ فرماتے ہیں کہ: ’ دولت سے دل نہ لگانا۔دولت سے مغرور نہ ہونا، دولت مندی میں امساک اور بخل