خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 11 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 11

خطبات مسرور جلد سوم 11 خطبہ جمعہ 17 جنوری 2005ء اب ان پاک نمونوں میں سے چند ایک کا میں ذکر کروں گا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : ایسا ہی مباہلہ کے بعد جبی فی اللہ شیخ رحمت اللہ صاحب نے مالی اعانت سے بہت سا بوجھ ہمارے درویش خانہ کا اٹھایا ہے۔میں خیال کرتا ہوں کہ سیٹھ صاحب ( حاجی سیٹھ عبد الرحمن، اللہ رکھا صاحب مدراس کے تاجر تھے ) موصوف سے بعد نمبر دوم پر شیخ صاحب ہیں۔جو محبت اور اخلاص سے بھرے ہوئے ہیں۔شیخ صاحب موصوف اس راہ میں دو ہزار سے زیادہ روپیہ دے چکے ہوں گے۔اور ہر ایک طور سے وہ خدمت میں حاضر ہیں۔(اس زمانے میں دو ہزار کی بڑی ویلیو (Value) تھی) اور اپنی طاقت اور وسعت سے زیادہ خدمت میں سرگرم ہیں۔ایسا ہی بعض میرے مخلص دوستوں نے مباہلہ کے بعد اس درویش خانہ کے کثرت مصارف کو دیکھ کر اپنی تھوڑی تھوڑی تنخواہوں میں سے اس کے لئے حصہ مقرر کر دیا ہے۔چنانچہ میرے مخلص دوست منشی رستم علی صاحب کورٹ انسپکٹر گورداسپور تنخواہ میں سے تیسرا حصہ یعنی 20 روپیہ ماہوار دیتے ہیں۔(ضمیمه انجام آتهم ، روحانی خزائن جلد 11 صفحه 312-313حاشیه) اس زمانے میں وہ بڑی چیز تھی۔تو دیکھیں اپنے پر تنگی کر کے قربانیاں کرنے کا جو طریق ہے وہ جاری کیا۔وہ نمونے قائم کئے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں تھے۔پھر ایک اور ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ”میں اپنی جماعت کے محبت اور اخلاص پر تعجب کرتا ہوں کہ ان میں سے نہایت ہی کم معاش والے جیسے میاں جمال الدین اور خیر الدین اور امام الدین کشمیری میرے گاؤں سے قریب رہنے والے ہیں وہ تینوں غریب بھائی بھی جو شاید تین آنه یا چار آنہ روزانہ مزدوری کرتے ہیں۔آج ان کی اولاد میں لاکھوں میں کھیل رہی ہیں۔) سرگرمی سے ماہواری چندہ میں شریک ہیں۔ان کے دوست میاں عبدالعزیز پٹواری کے اخلاص سے بھی مجھے تعجب ہے کہ باوجود قلت معاش کے ایک دن سو روپیہ دے گیا۔( یعنی اتنی طاقت نہیں تھی ایسا کاروبار نہیں تھا اس کے باوجود کہتے ہیں ایک دن مجھے ایک سوروپیہ دے گیا۔میں چاہتا ہوں کہ خدا کی راہ میں خرچ ہو جائے۔( تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: ) وہ