خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 10 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 10

خطبات مسرور جلد سوم 10 خطبہ جمعہ 7 / جنوری 2005ء رہے گی تو یہ ماں باپ کے لئے ایک صدقہ جاریہ ہو گا۔جیسا کہ میں نے کہا تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نصائح پر عمل کرنے کے نمونے ، قربانیوں میں ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کے نمونے ہمیں آخرین کی اس جماعت میں بھی ملتے ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے قائم کئے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے صحابہ نے جو قربانیوں کے نمونے قائم کئے ہیں ان کے نظارے بھی عجیب ہیں۔آج بھی ہمیں جو قربانیوں کے نظارے نظر آتے ہیں جیسا کہ میں نے کہا کہ بڑوں کی تربیت کا اثر ہوتا ہے۔یہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابہ کی اپنی اولاد کی تربیت اور ان کے لئے دعاؤں کا نتیجہ ہے اور سب سے بڑھ کر حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی اپنی جماعت کے لئے دعاؤں کی وجہ سے ہے۔جس درد سے آپ نے اپنی جماعت کی تربیت کرنے کی کوشش کی ہے جن کا ذکر حضور علیہ السلام کی تحریرات میں مختلف جگہ پر ملتا ہے اور جس تڑپ کے ساتھ آپ نے اپنی جماعت کے اعلیٰ معیار قائم کرنے کے لئے دعائیں کی ہیں، تقویٰ کے اعلیٰ معیار قائم کرنے کے لئے دعائیں کی ہیں۔یہ وہی پھل ہیں جو ہم کھا رہے ہیں۔مردہ درخت انہیں دعاؤں کے طفیل ہرے ہورہے ہیں جن میں بزرگوں کی اولا دیں بھی شامل ہیں اور نئے آنے والے بھی شامل ہیں۔ایک دور دراز علاقے کا آدمی جو عیسائیت سے اسلام قبول کرتا ہے اور پھر قربانیوں میں اس قدر بڑھ جاتا ہے کہ میں ہر وقت قربانی کرتا رہوں اور اگر بس چلے تو کسی کو آگے آنے ہی نہ دوں۔تو یہ سب کچھ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی قوت قدسی اور دعاؤں کا ہی نتیجہ ہے۔آپ کے زمانے میں یہ قربانیوں کے معیار قائم ہوئے جن کی آگے جاگ لگتی چلی جارہی ہے۔اس لئے اگر یہ معیار قائم کرنے ہیں تو اس زمانے کے اعلیٰ معیار قائم کرنے والوں ، اپنے اندر اس قوت قدسی سے پاک تبدیلی پیدا کرنے والوں کے بھی جو ذکر ہیں ان کا ذکر چلتا رہنا چاہئے تاکہ ان بزرگوں کے لئے بھی دعا کی تحریک ہو اور ہمیں بھی یہ احساس رہے کہ یہ پاک نمونے نہ صرف اپنے اندر قائم رکھنے ہیں، بلکہ اپنی نسلوں کے اندر بھی پیدا کرنے ہیں۔