خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 154 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 154

خطبات مسرور جلد سوم 154 خطبہ جمعہ 11 / مارچ 2005ء چنانچہ ایک روایت میں آتا ہے حضرت عمر نے عمرہ پر جانے کے لئے اجازت چاہی تو آپ نے اجازت دیدی اور کمال انکسار سے فرمایا کہ اے میرے بھائی! ہمیں اپنی دعاؤں میں نہ بھولنا۔حضرت عمرؓ کہتے ہیں کہ مجھے اس بات سے اتنی خوشی ہوئی کہ ساری دنیا بھی مل جاتی تو اتنی خوشی نہ ہوتی۔(ابوداؤد - كتاب الوتر - باب الدعاء) حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو یہ خوشی یقیناً اس بات سے بھی ہوئی ہوگی اور یقین ہوگا کہ آپ کے یہ فرمانے کے بعد میری دوسری بھی تمام دعائیں قبول ہو جائیں گی۔کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمرؓ کی دعاؤں کی قبولیت کی بھی یقیناً دعا کی ہوگی۔پھر دیکھیں عاجزی کی انتہا ہے اللہ تعالیٰ نے آپ کو تمام انبیاء پر فضیلت دی۔آپ کو خاتم النبین فرمایا ہے۔تمام امتوں کی فلاح آپ کے ہاتھ پر اکٹھا ہونے میں رکھی ہے۔لیکن جب ایک مسلمان اور یہودی کی لڑائی ہوتی ہے تو آپ مسلمان کو نصیحت کرتے ہیں، سرزنش کرتے ہیں۔چنانچہ روایت میں آتا ہے۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ایک یہودی اور مسلمان کا آپس میں جھگڑا ہو گیا۔مسلمان نے کہا اس ذات کی قسم جس نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام جہانوں پر فضیلت عطا فرمائی اور چن لیا۔اس پر یہودی نے کہا اس ذات کی قسم جس نے موسیٰ کو تمام جہانوں پر فضیلت دی اور چن لیا۔اس پر مسلمان نے ہاتھ اٹھایا اور یہودی کو تھپڑ دے مارا۔یہودی شکایت لے کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا اور تمام واقعہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے گوش گزار کیا۔آپ نے اس مسلمان کو بلا کر اس واقعہ کے بارے میں پوچھا اور تفصیل سن کر اس مسلمان پر ناراض ہوئے اور فرمایا لَا تُخَيَّرُوْنِيْ عَلَى مُوسَى مُجھے موسیٰ “ پر فضیلت نہ دو۔(بخارى كتاب الخصومات -باب ما يذكر في الاشخاص والخصومة بين المسلم واليهود) پھر دیکھیں اللہ تعالیٰ کے خوف اور عاجزی کی ایک اور مثال۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی بھی (اپنے اعمال