خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 9 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 9

خطبات مسرور جلد سوم 9 خطبہ جمعہ 7 / جنوری 2005ء بڑے بڑے قیمتی سیٹ پیش کئے کہ یہ ہمارے زیوروں میں سے بہترین ہیں۔تو یہ ہے احمدی کا اخلاص۔اس حکم پر عمل کر رہے ہیں کہ لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّحَتَّى تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّونَ ﴾ (آل عمران: 93) جو سب سے پسندیدہ چیزیں ہیں وہ ہی پیش کی جارہی ہیں۔تو مردوں کے ساتھ ساتھ عورتوں کا بھی یہی ایمان ہے۔ان باتوں کو دیکھ کر کون کہہ سکتا ہے کہ جماعت میں اخلاص کی کمی ہے۔ہاں یاددہانی کی ضرورت پڑتی ہے اور وہ کرواتے رہنا چاہئے۔اس کا حکم بھی ہے۔تو وقف جدید کے ضمن میں احمدی ماؤں سے میں یہ کہتا ہوں کہ آپ لوگوں میں یہ قربانی کی عادت اس طرح بڑھ بڑھ کر اپنے زیور پیش کرنا آپ کے بڑوں کی نیک تربیت کی وجہ سے ہے۔اور سوائے استثناء کے الا ماشاء اللہ ، جن گھروں میں مالی قربانی کا ذکر اور عادت ہوان کے بچے بھی عموماً قربانیوں میں آگے بڑھنے والے ہوتے ہیں۔اس لئے احمدی مائیں اپنے بچوں کو چندے کی عادت ڈالنے کے لئے وقف جدید میں شامل کریں۔حضرت خلیفہ المسح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ نے پاکستان میں بچوں کے ذمہ وقف جدید کیا تھا۔اور اُس وقت سے وہاں بچے خاص شوق کے ساتھ یہ چندہ دیتے ہیں۔اگر باقی دنیا کے ممالک بھی اطفال الاحمدیہ اور ناصرات الاحمدیہ کو خاص طور پر اس طرف متوجہ کریں تو شامل ہونے والوں کی تعداد کے ساتھ ساتھ چندے میں بھی اضافہ ہوگا۔اور سب سے بڑا مقصد جو قربانی کا جذبہ دل میں پیدا کرنا ہے وہ حاصل ہوگا۔انشاء اللہ۔اگر مائیں اور ذیلی تنظیمیں مل کر کوشش کریں اور صحیح طریق پر کوشش ہو تو اس تعداد میں آسانی سے ( جو موجودہ تعداد ہے ) دنیا میں 6لاکھ کا اضافہ ہو سکتا ہے، بغیر کسی دقت کے۔اور یہ تعداد آسانی سے 10 لاکھ تک پہنچائی جاسکتی ہے۔کیونکہ موجودہ تعداد 4لاکھ کے قریب ہے جیسا کہ میں آگے بیان کروں گا۔عورتیں یا درکھیں کہ جس طرح مرد کی کمائی سے عورت جو صدقہ دیتی ہے اس میں مرد کو بھی ثواب میں حصہ مل جاتا ہے تو آپ کے بچوں کی اس قربانی میں شمولیت کا آپ کو بھی ثواب ہو گا۔اللہ تعالیٰ نیتوں کو جانتا ہے اور ان کا اجر دیتا ہے۔اور جب بچوں کو عادت پڑ جائے گی تو پھر یہ مستقل چندہ دینے والے بچے ہوں گے۔اور زندگی کے بعد بھی یہ چندہ دینے کی عادت قائم