خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 149 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 149

خطبات مسرور جلد سوم 149 خطبہ جمعہ 11 / مارچ 2005ء ہیں۔لیکن آپ کے بارے میں حقیقت بیان کی جارہی ہے اس کو بھی آپ کہہ رہے ہیں کہ نہیں اس طرح بیان نہ کرو۔پھر باوجود اس کے کہ آپ کو اپنے اعلیٰ مقام کا خوب خوب علم تھا لیکن عاجزی کا اظہار اس سے بڑھ کر تھا۔حضرت ابوسعید سے روایت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔میں بنی آدم کا سردار ہوں مگر اس میں کوئی فخر کی بات نہیں اور قیامت کے دن سب سے پہلے مجھ سے زمین کو پھاڑا جائے گا۔مگر اس میں کوئی فخر کی بات نہیں۔قیامت کے دن میں سب سے پہلے شفاعت کرنے والا ہوں گا۔اور سب سے پہلا ہوں گا جس کی شفاعت قبول کی جائے گی۔لیکن وَلَا فَخْرَ اس میں کوئی فخر کی بات نہیں۔اور قیامت کے دن حمد کا جھنڈا میرے ہاتھ میں ہوگا۔لیکن اس میں (ابن ماجه - كتاب الزهد - باب ذكر الشفاعة) کوئی فخر نہیں۔پھر سفروں یا جنگوں وغیرہ پر جاتے ہوئے بھی سواریوں کی کمی کی وجہ سے جو سلوک دوسرے قافلے والوں کے ساتھ ہوا کرتا تھا آپ اپنے لئے بھی وہی پسند فرمایا کرتے تھے۔چنانچہ روایت میں آتا ہے کہ جنگ بدر کے موقع پر جب آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم جنگ کے لئے تشریف لے گئے تو صرف ستر سواریاں تھیں اور تمام صحابہ ان پر سوار نہ ہو سکتے تھے چنانچہ تین تین اور چار چار صحابہ باری باری ایک ایک اونٹ پر سوار ہوتے تھے۔آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے بھی کوئی الگ اونٹ نہ تھا۔آپ اور حضرت علی اور مرثد بن ابی مرشد ، ایک اونٹ پر باری باری سوار ہوتے تھے۔(السيرة النبوية لابن هشام - غزوة بدر الكبرى عدد ابل المسلمين) اور باوجود اصرار کے بھی آپ نہیں مانا کرتے تھے کہ نہیں اسی طرح باری کے حساب سے ہم بیٹھیں گے۔پھر ایک روایت میں آتا ہے عبداللہ بن جبیر بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب کے ساتھ کہیں تشریف لے جارہے تھے۔آپ کے لئے کپڑے کا سایہ کیا گیا۔جب آپ نے سایہ دیکھا اور سر اوپر اٹھایا اور دیکھا آپ (صلی اللہ علیہ وسلم ) کو