خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 148
خطبات مسرور جلد سوم ہو جایا کرتا تھا۔148 خطبہ جمعہ 11 / مارچ 2005ء چنانچہ ایک روایت میں آتا ہے کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت فرما کر جب مدینہ میں ورود فرما ہوئے تو دوپہر کا وقت تھا۔دھوپ کی شدت تھی۔آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم ایک درخت کے سائے میں تشریف فرما ہوئے۔لوگ جوق در جوق آنے لگے۔آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی تھے جو آپ کے ہم عمر ہی تھے۔اہل مدینہ بیان کرتے ہیں کہ ہم میں سے اکثر نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس سے قبل نہ دیکھا تھا۔لوگ آپ کے پاس آنے لگے مگر حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی وجہ سے آپ کو نہ پہچانتے تھے۔پہچاننا مشکل ہو گیا۔تو آپ اس قدر عاجزی اور سادگی کے ساتھ تشریف فرما تھے کہ سب لوگ حضرت ابوبکر کو ہی سمجھنے لگے کہ وہ ہی نبی ہیں، رسول خدا ہیں۔جب حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ محسوس کیا تو کھڑے ہو گئے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر اپنی چادر سے سایہ کرنے لگے جس سے لوگوں نے جان لیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کون ہیں۔(السيرة النبوية لابن هشام - منازل المهاجرين بالمدينة - باب قدومه ﷺ قباء) پھر آپ کی انتہائی عاجزی کا ایک اور روایت میں یوں ذکر آتا ہے۔حضرت انس بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے آکر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کر کے فرمایا: اے محمد ! (صلی اللہ علیہ وسلم ) ، اے ہم میں سے سب سے بہترین اور اے ہم میں سے بہترین لوگوں کی اولاد، اور اے ہمارے سردار اور ہمارے سرداروں کی اولاد!۔آپ نے سنا تو فرمایا کہ دیکھو تم اپنی اصل بات کہو اور شیطان کہیں تمہاری پناہ نہ لے۔میں محمد بن عبداللہ ہوں اور اللہ کا رسول ہوں۔میں نہیں چاہتا کہ تم لوگ میرا مقام اس سے بڑھا چڑھا کر بتاؤ جو اللہ نے مقرر فرمایا ہے۔یہ ساری باتیں جو آنے والے نے کہی تھیں سچ تھیں ایک بھی غلط نہیں تھی لیکن آپ کی عاجزی نے یہ گوارا نہ کیا کہ اس طرح کوئی آپ کی تعریف کرے۔فوراً اسے ٹوک دیا۔کسی دنیاوی بادشاہ کے دربار میں جائیں بلکہ کسی عام امیر آدمی کے پاس ہی چلے جائیں تو جب تک اس کی تعریف نہ کریں وہ آپ کی بات سننا نہیں چاہتا۔اکثر یہی ہوتا ہے اور وہ بھی جھوٹی تعریفیں ہوتی ہیں، مبالغہ سے پُر ہوتی