خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 147 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 147

خطبات مسرور جلد سوم 147 خطبہ جمعہ 11 / مارچ 2005ء آپ عاجزی اور انکسار کا کس طرح اظہار فرمایا کرتے تھے۔حضرت عائشہؓ سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں کہ کوئی شخص آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر حسن خلق کا مالک نہیں تھا۔کبھی ایسا نہیں ہوا کہ صحابہ میں سے یا اہل بیت میں سے کسی نے آپ کو بلایا ہو اور آپ نے اس کو لبیک یا حاضر ہوں، کہہ کر جواب نہ دیا ہو۔حضرت عائشہؓ کہتی ہیں کہ اسی وجہ سے قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَإِنَّكَ لَعَلَى خُلُقٍ عَظِيمٍ (القلم: 5 ) کہ تو خلق عظیم پر فائز کیا گیا ہے۔تو دیکھیں بادشاہ دو جہان اللہ کا سب سے پیارا، آخری نبی لیکن عاجزی کی یہ انتہا کہ ہر بلانے والے کو ایک عام آدمی کی طرح جواب دے رہے ہیں کہ میں حاضر ہوں۔بلکہ عام آدمی سے بھی بڑھ کر عاجزی دکھاتے ہوئے۔پھر حضرت ابو امامہ کہتے ہیں کہ ایک دفعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ہم نے دیکھا کہ حضور اپنی سوئی کو ٹیکتے ہوئے ہماری طرف آ رہے ہیں۔ہم حضور کو دیکھ کر احتراما کھڑے ہو گئے۔حضور نے فرمایا کہ نہیں بیٹھے رہو اور دیکھو جس انداز میں عجمی ایک دوسرے کے احترام کے لئے کھڑے ہوتے ہیں تم ایسے نہ کھڑے ہوا کرو۔پھر آپ نے فرمایا کہ میں تو اللہ کا صرف ایک بندہ ہوں۔اس کے دوسرے بندوں کی طرح میں بھی کھاتا پیتا ہوں اور انہیں کی طرح اٹھتا بیٹھتا صلى الله ہوں۔(الشفاء لقاضي عياض - الباب الثاني الفصل التاسع عشر - باب تواضعه ) پھر حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہما سے روایت ہے۔آپ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی کی طرف رخ پھیرتے تو پورا رخ پھیرتے نظر ہمیشہ نیچی رہتی۔یوں لگتا جیسے فضا کی نسبت زمین کی طرف آپ کی نظر زیادہ پڑتی ہے۔آپ اکثر نیم وا آنکھوں سے دیکھتے، اپنے صحابہ کے پیچھے پیچھے چلتے اور جب کبھی خاص جگہوں پہ جانا ہوتا تو ان کا خیال رکھتے۔ہر ملنے والے کو سلام میں پہل کرتے۔(شمائل ترمذی باب خَلْق رسول الله ﷺ اور آپ کا یہ صحابہ کے ساتھ اس طرح گھل مل کر بیٹھنا اور کوئی تخصیص نہ ہونا بعض نئے آنے والوں کو مشکل میں ڈال دیتا تھا۔جو آپ کو جانتے نہ تھے ان کے لئے آپ کو پہچاننا مشکل