خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 143
خطبات مسرور جلد سوم 143 9 خطبہ جمعہ 11 / مارچ 2005ء آنحضرت صل اللہ یلم کا خلق عظیم عجز وانکسار خطبه جمعه فرموده 11 / مارچ 2005ء بمقام مسجد بیت الفتوح - مورڈن ،لندن۔تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے درج ذیل آیت قرآنی کی تلاوت کی :۔پھر فرمایا:۔وَعِبَادُ الرَّحْمَنِ الَّذِينَ يَمْشُونَ عَلَى الْأَرْضِ هَوْنًا وَإِذَا خَاطَبَهُمُ الْجَهِلُونَ قَالُوا سَلَمَّا (الفرقان: 64) اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اور رحمن کے بندے وہ ہیں جو زمین پر فروتنی اور عاجزی کے ساتھ چلتے ہیں اور جب جاہل ان سے مخاطب ہوتے ہیں تو کہتے ہیں سلام۔ان عبادالرحمن میں سے سب سے بڑے عبد رحمن وہ نبیوں کے سردار حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم تھے جن کی قوت قدسی نے عباد الرحمن پیدا کئے۔تکبر سے رہنے والوں کو بجز کے راستے دکھائے۔ان کے ذہنوں سے غلام اور آقا اور امیر اور غریب کی تخصیص ختم کر دی۔یہ سب انقلاب کس طرح آیا۔یہ اتنی بڑی تبدیلی دلوں میں کس طرح پیدا ہوئی۔کیا صرف پیغام پہنچانے سے؟ تعلیم دینے سے؟ نہیں ، اس کے ساتھ ساتھ خود بھی عبدیت کے اعلیٰ معیار آپ نے قائم گئے۔خود بھی یہ عاجزی اور انکساری کے نمونے دکھا کر اپنے عمل سے ثابت کر کے دکھایا کہ جو کچھ