خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 8
خطبات مسرور جلد سوم 8 خطبہ جمعہ 7 / جنوری 2005ء زدگان کے لئے جب میں نے جماعت کو کہا تھا کہ مدد کریں جو آجکل انڈونیشیا، سری لنکا میں زلزلہ کے اثرات ہیں بڑا جانی نقصان ہوا ہے۔تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت نے ہر جگہ بڑے پر زور طریقے سے اس میں حصہ لیا ہے۔لبیک کہا اور آگے آئے۔امریکہ میں ایک جماعت نے 35-36 ہزار ڈالرز ا کٹھے کئے تھے تا کہ وہاں بھجوائے جا سکیں۔تو وہیں کے ایک صاحب حیثیت شخص نے کہا کہ اتنی ہی رقم میں دیتا ہوں۔چنانچہ انہوں نے اتنی ہی رقم ڈال کر اس کو دو گنا کر دیا۔35-36 ہزار ڈالرز فوراً ادا کر دیئے۔تو یہ صرف اس لئے کہ جماعت کو قربانی کی عادت ہے۔اور پتہ ہے کہ اللہ تعالیٰ قربانیوں کے پھل دیتا ہے اور اس نے اپنے وعدوں کے مطابق یقیناً پھل دینے ہیں۔پھر ایک روایت میں آتا ہے۔حضرت جابر بن عبداللہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بار نماز عید پڑھائی آپ کھڑے ہوئے نماز سے آغاز کیا اور پھر لوگوں سے خطاب کیا، جب آپ فارغ ہو گئے تو آپ منبر سے اترے اور عورتوں میں تشریف لے گئے اور انہیں نصیحت فرمائی۔آپ اس وقت حضرت بلال کے ہاتھ کا سہارا لئے ہوئے تھے۔اور حضرت بلال نے کپڑا پھیلایا ہوا تھا جس میں عورتیں صدقات ڈالتی جارہی تھیں۔(بخارى كتاب العيدين - باب موعظة الامام النساء يوم العيد) تو اسلام میں مالی قربانی کی مثالیں صرف مردوں تک ہی محدود نہیں ہیں۔بلکہ اس پیاری تعلیم اور جذبہ ایمان کی وجہ سے عورتیں بھی مالی قربانی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی رہی ہیں اور لیتی ہیں اور اپنا زیور اتارا تار کر چھینکتی رہی ہیں اور آج پہلوں سے ملنی والی جماعت میں یہی نمونے ہمیں نظر آتے ہیں۔اور عورتیں اپنے زیور آ آ کر پیش کرتی ہیں۔عموماً عورت جو شوق سے زیور بنواتی ہے اس کو چھوڑ نا مشکل ہوتا ہے لیکن احمدی عورت کا یہ ایمان ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ یہی ہے کہ اپنی پسندیدہ چیز پیش کی جائے۔گزشتہ دنوں میں جب انگلستان کی مساجد اور پھر تحریک جدید کے بزرگوں کے پرانے کھاتے کھولنے کی میں نے تحریک کی تھی تو احمدی خواتین نے بھی اپنے زیور پیش کئے۔اور بعض