خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 141 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 141

خطبات مسرور جلد سوم 141 خطبہ جمعہ 4 / مارچ 2005ء دیکھیں آپ کو ہر وقت یہ گن تھی کہ اس کتاب کو امت ہمیشہ پڑھتی رہے، اس پر عمل کرتی رہے۔کہیں یہ نہ ہو کہ اس کو چھوڑ دے۔اور یقیناً اس کے لئے آپ دعا ئیں بھی کرتے تھے۔اور یہ جو درجات کی بلندی کے بارے میں فرما رہے ہیں یہ بھی اللہ تعالیٰ نے ہی آپ کو بتایا ہوگا۔اور اسی سے علم پا کر آپ نے بتایا ہے کہ اس کے درجات کی بلندی ہوگی۔اللہ کرے کہ آپ کی اس دلی تمنا کو امت سمجھے۔اور بھی بے شمار مثالیں ہیں جن میں آپ نے امت کو قرآن پڑھنے اور اس پر عمل کرنے کی نصیحت فرمائی ہے تا کہ وہ اعلیٰ اخلاق قائم ہو سکیں جن کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زندگی کا حصہ بنایا ہوا تھا اور آپ چاہتے تھے کہ امت بھی ان پر عمل کرے اور قرآن کریم کی تعلیم تمام دنیا میں رائج ہو جائے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : اس بارہ میں کوئی شبہ نہیں کہ قرآن مجید وحی متلو ہے اور اس کا ہر حصہ متواتر اور قطعی ہے اور حتیٰ کہ اس کے نقطے اور حروف بھی۔خدا تعالیٰ نے اسے ایک زبر دست اور کامل اہتمام کے ساتھ ملائکہ کی حفاظت اور پہرہ میں اتارا ہے۔پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بارے میں کسی قسم کا دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا اور ہمیشہ اس بات پر مداومت سے عمل کیا کہ اس کی آیت آیت آپ کی آنکھوں کے سامنے اسی طرح لکھی جائے جس طرح نازل ہوتی تھی۔یہاں تک کہ آپ نے تمام قرآن کو جمع فرما دیا اور بنفس نفیس اس کی آیات کی ترتیب قائم فرمائی۔آپ ہمیشہ نمازوں وغیرہ میں اس کی تلاوت کرتے رہے یہاں تک کہ اس دنیا سے رخصت ہو کر اپنے رفیق اعلیٰ اور محبوب رب العالمین سے جاملے۔(ترجمه عربی عبارت 'حمامة البشرى، روحانی خزائن جلد 7 صفحه (216) اللہ تعالیٰ ہمیں قرآن کریم کو پڑھنے، سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین