خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 137
خطبات مسرور جلد سوم 137 خطبہ جمعہ 4 / مارچ 2005ء الفاظ جہاں بھی آتے تھے آپ کانپ جایا کرتے تھے ، اللہ تعالیٰ کی خشیت غالب آجایا کرتی تھی۔اور پھر یقیناً آپ اسی صورت میں امت کے لئے دعائیں بھی کرتے ہوں گے۔اللہ تعالیٰ کے انعامات والی آیات سن کر، پڑھ کر اللہ تعالیٰ کی حمد کرتے تھے۔غرض کہ عجیب انداز تھا، عجیب اسلوب تھا آپ کا قرآن کریم پڑھنے کا اور سمجھنے کا اور تلاوت کرنے کا۔ایک روایت میں آتا ہے۔عَبْدُالله بن مُغَفل رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت ہے کہ میں نے فتح مکہ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک اونٹ پر سوار سورۃ الفتح پڑھتے دیکھا۔آپ بار بار ہر آیت کو دوہراتے تھے۔(سنن ابی داؤد - كتاب الوتر - باب استحباب الترتيل في القراءة – حديث نمبر 1464) اُس وقت آپ کے جذبات اللہ تعالیٰ کی حمد سے لبریز تھے، اس کے شکر سے لبریز تھے۔آپ کا سر اللہ تعالیٰ کے حضور سجدہ ریز تھا۔روایات میں آتا ہے جس اونٹ پر آپ بیٹھے ہوئے تھے اس کی سیٹ کے اگلے حصے پر سر ٹک گیا تھا۔کیونکہ آپ کو اس فتح کے ساتھ آئندہ آنے والی فتوحات کے نشانات بھی نظر آ رہے تھے۔اس سے اللہ تعالیٰ کی حمد اور شکر کے جذبات اور زیادہ بڑھ گئے تھے۔پھر سوتے وقت بھی آپ اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کی پناہ میں دے کر سویا کرتے تھے۔چنا نچہ اُم المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہر شب جب اپنے بستر پر جاتے تو دونوں ہاتھوں کی ہتھیلیاں ملاتے پھر ان میں پھونکتے اور قُلْ هُوَ اللهُ اَحَد ، قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ اور قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِ پڑھتے۔پھر جہاں تک ہو سکتا اپنے بدن پر ہاتھ ملتے اور آغا ز سر اور منہ اور جسم کے اگلے حصے سے فرماتے اور - تین دفعہ ایسا ہی کرتے تھے۔(بخاری - کتاب فضائل -القرآن باب فضل المعوذات) گویا ایک ڈھال تھی اللہ تعالیٰ کی پناہ میں آنے کی جس کو آپ اپنے اوپر اوڑھ لیا کرتے تھے۔حالانکہ روایات میں آتا ہے کہ آپ کا سونا بھی جاگنے جیسا ہی تھا۔کئی آدمی عموماً جاگتے ہوئے بھی سور ہے ہوتے ہیں۔تو آپ کا تو یہ حال تھا کہ سوتے ہوئے بھی مسلسل دعائیں ہی کر