خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 129 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 129

خطبات مسرور جلد سوم 129 خطبہ جمعہ 4 / مارچ 2005ء نے جب خبر سنی تو نشے کی حالت میں بھی یہ نہیں کہا کہ پہلے پتہ کرو کیا ہورہا ہے کیا نہیں ہو رہا۔بلکہ پہلے شراب کے مٹکے توڑے گئے۔تو یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قوت قدسی ہی تھی جس نے یہ انقلاب برپا کیا۔تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ جس قدر کسی شخص کی قوت قدسی ہوتی ہے اسی قدر اس کا قوت وشوکت کا کلام ہوتا ہے۔پھر فرمایا کہ: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قوت قدسی اور کمال باطنی چونکہ اعلیٰ سے اعلیٰ درجہ کا تھا۔جس سے بڑھ کر کسی انسان کا نہ کبھی ہوا اور نہ آئندہ ہو گا۔اس لئے قرآن شریف بھی تمام پہلی کتابوں اور صحائف سے اس اعلیٰ مقام اور مرتبہ پر واقع ہوا ہے جہاں تک کوئی دوسرا کلام نہیں پہنچا۔کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی استعداد اور قوت قدسی سب سے بڑھی ہوئی تھی۔اور تمام مقامات کمال آپ پر ختم ہو چکے تھے اور آپ انتہائی نقطہ پر پہنچے ہوئے تھے اور اس مقام پر قرآن شریف جو آپ کپر نازل ہوا کمال کو پہنچا ہوا ہے۔اور جیسے نبوت کے کمالات آپ پر ختم ہو گئے اسی طرح پر اعجاز کلام کے کمالات قرآن شریف پر ختم ہو گئے۔آپ خاتم النبین ٹھہرے اور آپ کی کتاب خاتم الکتب ٹھہری۔جس قدر مراتب اور وجوہ اعجاز کلام کے ہو سکتے ہیں ان سب کے اعتبار سے آپ کی کتاب انتہائی نقطہ پر پہنچی ہوئی ہے۔یعنی کیا باعتبار فصاحت و بلاغت، کیا باعتبار ترتیب مضامین، کیا باعتبار تعلیم، کیا باعتبار کمالات تعلیم، کیا باعتبار ثمرات تعلیم ، غرض جس پہلو سے دیکھو اسی پہلو سے قرآن شریف کا کمال نظر آتا ہے اور اس کا اعجاز ثابت ہوتا ہے۔اور یہی وجہ ہے کہ قرآن شریف نے کسی خاص امر کی نظیر نہیں مانگی بلکہ عام طور پر نظیر طلب کی ہے یعنی جس پہلو سے چاہو مقابلہ کرو۔خواہ بلحاظ فصاحت و بلاغت، خواه بلحاظ مطالب و مقاصد، خواه بلحاظ تعلیم ، خواه بلحاظ، پیشنگوئیوں اور غیب کے جو قرآن شریف میں موجود ہیں۔غرض کسی رنگ میں دیکھو یہ مجزہ ہے“۔(ملفوظات جلد 2 صفحه 26-27 جدید ایڈیشن - الحکم 24 اپریل 1903ء صفحه (21) تو جیسا کہ آپ نے فرمایا کہ قرآن کریم ایک مکمل معجزہ ہے۔اور یہی نہیں کہ اس میں مکمل تعلیم آ گئی اور یہ معجزہ ہے بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس معجزے کے ہر حکم کو اپنی زندگی کا حصہ بنا