خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 111 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 111

خطبات مسرور جلد سوم 111 خطبہ جمعہ 25 فروری 2005ء میری کسی غلطی پر سخت الفاظ مجھے نہیں کہے۔پھر آپ کے اعلیٰ اخلاق کے بارے میں ایک اور روایت میں حضرت براء بن عاذب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں میں سب سے زیادہ خوبصورت صلى الله (بخاری کتاب المناقب ـ باب صفة النبي ﷺ عليه اور خوش اخلاق تھے۔اعلیٰ اخلاق کا اظہار چہروں سے بھی ہوتا ہے۔اگر کوئی ہر وقت اپنے چہرے پر بدمزگی طاری کئے رکھے اور سنجیدگی اور غصہ ظاہر ہورہا ہو تو اندر جیسے مرضی اچھے اخلاق ہوں ، دوسرا د یکھنے والا تو ایک دفعہ پریشان ہو جاتا ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کی کیفیت بھی کیا ہوتی تھی۔روایات میں آتا ہے کہ ہر وقت چہرے پر مسکراہٹ ہوتی تھی۔حضرت عبداللہ بن حارث بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ متبسم اور مسکرانے والا کوئی نہیں دیکھا۔(الشفاء لقاضي عياض - الباب الثانى - الفصل السادس عشر۔حسن عشرته) پھر ایک صحابی حضرت قیس " بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے جریر بن عبداللہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا کہ اسلام لانے کے زمانے سے ( یعنی جب سے وہ مسلمان ہوئے ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کبھی بھی ملنے سے منع نہیں فرمایا۔اور آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی انہیں دیکھتے تو مسکرا دیا کرتے تھے۔(بخارى كتاب المناقب باب ذكر جرير بن عبدالله البجلي) حضرت اُمّ معبد رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شخصیت کو یوں بیان کرتی ہیں کہ : آپ صلی اللہ علیہ وسلم دور سے دیکھنے میں لوگوں میں سے سب سے زیادہ خوبصورت تھے اور قریب سے دیکھنے میں انتہائی شیریں زبان اور عمدہ اخلاق والے تھے۔(الشفاء لقاضي عياض - الباب الثاني الفصل الثالث - نظافته۔دیکھ کے ہی پتہ لگ جاتا تھا کہ یہ شخص نرم خو، نرم دل ہے۔جوحسن دور سے دیکھنے پر ہر ظاہری حسن کو ماند کر دیتا تھا۔کوئی بھی حسین چہرہ دیکھنے میں اس چہرے کے مقابلے کا نہیں تھا۔یہ حسن