خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 109 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 109

خطبات مسرور جلد سوم 109 خطبہ جمعہ 25 فروری 2005ء یعنی عظیم چیز وہ ہوتی ہے کہ عقل اس کو سوچ نہیں سکتی ، اس کا احاطہ نہیں کر سکتی ، اس تک پہنچ ہی نہیں سکتی۔“ (براہین احمدیہ ہر چہار حصص - روحانی خزائن جلد ۱ صفحه 194 بقيه حاشیه نمبر 11) تو یہ ہیں وہ عظیم اخلاق ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ان کے اعلیٰ معیار تک تمہاری عقل وسوچ پہنچ ہی نہیں سکتی۔وہ سوچ سے باہر ہیں۔اور جب وہ ایک مومن کی سوچ سے باہر ہو جائیں تو ایک ایسا آدمی جو مومن نہیں ہے، اس کی سوچ تو ان تک پہنچ ہی نہیں سکتی۔وہ تو ہر ایسے پہلو کی اپنی سوچ کے مطابق اپنی ہی تشریح کرے گا۔اور اگر کرے گا بھی تو اگر اچھائی کی طرف بھی جائے تو اس کا ایک محدود دائرہ ہوگا۔ہمیں بہر حال یہ حکم ہے کہ تم بہر حال اپنی استعدادوں کے مطابق ان اخلاق کی پیروی کرنے کی کوشش کرو۔اللہ تعالیٰ کی اس زبر دست گواہی کے باوجود کہ آپ عظیم خلق پر قائم ہیں اور اللہ کا قرب پانے کے لئے ، آپ کے نقش قدم پر چلنا ضروری ہے آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے ہمیشہ اپنے آپ کو عاجز بندہ ہی سمجھا ہے۔چنانچہ ایک دعا جو آپ مانگا کرتے تے وہ آپ کے اس خلق عظیم کو اور بلندیوں پر لے جاتی ہے۔اور بے اختیار آپ کے لئے درود وسلام نکلتا ہے۔حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا کیا کرتے تھے : کہ اے اللہ ! جس طرح تو نے میری شکل وصورت اچھی اور خوبصورت بنائی ہے اسی طرح میرے اخلاق و عادات بھی اچھے بنادے۔(مسند احمد بن حنبل جلد 6صفحه 155 مطبوعه (بيروت) دیکھیں خوبصورت شکل وصورت پر بے اختیار اللہ تعالیٰ کے حضور شکر کے جذبات نکل رہے ہیں۔اور ساتھ یہ بھی کہ اے خدا! تو نے کہہ تو دیا کہ یہ نبی خلق عظیم پر قائم ہے۔لیکن میں بشر ہوں اس لئے میرے اخلاق و اطوار ہمیشہ اچھے ہی رکھنا۔ان پاک نمونوں کو قائم کرنے کی جو ذمہ داری تو نے میرے سپرد کی ہے اس کو مجھے احسن طور پر بجالانے کی توفیق بھی دینا۔تو دیکھیں یہ اعلیٰ اخلاق اور عاجزی کی انتہا۔اللہ تعالیٰ آپ کو فرما رہا ہے کہ تم خلق عظیم پر قائم ہو، امت کو فرما رہا