خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 108 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 108

خطبات مسرور جلد سوم 108 خطبہ جمعہ 25 فروری 2005ء سیرت کا مضمون یقیناً ہم سب کے لئے باعث برکت ہوگا۔اور جہاں یہ ہمارے لئے برکت اور آپ کی سیرت کے پہلوؤں کو اپنی یادداشت میں تازہ کرنے کا موجب ہوگا، ہمارے اندر پاک تبدیلیاں پیدا کرنے کا باعث ہوگا وہاں غیروں کے سامنے ہمارے نبی حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کی چند جھلکیاں بھی آجائیں گی۔ان کو بھی پتہ لگے گا کہ وہ نبی کن اعلیٰ اخلاق کا مالک تھا۔گو کہ پہلے بھی پتہ ہے لیکن پھر بھی گہرائی میں جا کر دیکھنا نہیں چاہتے۔پرانی باتیں ان کو بھول جاتی ہیں۔یہ آیت جو میں نے تلاوت کی ہے۔اس میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یقیناً تمہارے لئے اللہ کے رسول میں نیک نمونہ ہے۔ہر اس شخص کے لئے جو اللہ اور یوم آخرت کی امید رکھتا ہے اور کثرت سے اللہ کو یاد کرتا ہے۔تو ہر ایسا شخص جو اللہ کا خوف رکھتا ہے اس کو آخرت کا یقین ہے اور اگر اس کو اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش ہو کر حساب کتاب کا خوف ہے ، اگر وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے والا ہے اور اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے والا بنا چاہتا ہے تو اس کو لا ز ما نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نمونہ کی پیروی کرنا ہوگی کیونکہ یہ اعلیٰ نمونے ، یہ اعلیٰ اخلاق ، یہ اعلی مثالیں صرف اور صرف حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم میں ہی مل سکتی ہیں۔اور اللہ تعالیٰ گواہی دیتا ہے کہ ان نمونوں پر تم نے کیوں قائم ہونا ہے؟ اس لئے قائم ہونا ہے، فرماتا ہے، حکم دیتا ہے کہ اگر خلق عظیم پر کوئی شخص ہے تو وہ حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔جیسا کہ فرمایا وَإِنَّكَ لَعَلى خُلُقٍ عظیم ﴾ (القلم: 5) ( یعنی تو اپنی تعلیم اور اپنے عمل میں اعلیٰ درجہ کے اخلاق پر قائم ہے۔) حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام وَإِنَّكَ لَعَلَى خُلُقٍ عَظِيمٍ ) کے بارے میں فرماتے ہیں: تو اے نبی ایک خلق عظیم پر مخلوق ومفطور ہے۔یعنی اپنی ذات میں تمام مکارم اخلاق کا ایسا تم اور مکمل ہے کہ اس پر زیادت متصور نہیں۔’ کہ یہ جواعلیٰ اخلاق ہیں اتنے مکمل آپ میں پائے جاتے ہیں کہ اس سے زیادہ کا تصور ہی نہیں کیا جا سکتا۔فرمایا: کیونکہ لفظ محاورہ عرب میں اس چیز کی صفت میں بولا جاتا ہے جس کو اپنا نوعی کمال پورا پورا حاصل ہو۔یعنی جو بھی صفت ہے اس میں وہ انتہائی حد تک پہنچی ہو۔“ آپ فرماتے ہیں کہ: بعضوں نے کہا ہے کہ عظیم وہ چیز ہے۔جس کی عظمت اس حد تک پہنچ جائے کہ حیطۂ ادراک سے باہر ہو