خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 107 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 107

خطبات مسرور جلد سوم 107 7 خطبہ جمعہ 25 فروری 2005ء نبی اکرم صلی للہا لی کی پاکیزہ سیرت اور آپ کے حسین شمائل خطبه جمعه فرموده 25 فروری 2005ء بمقام مسجد بیت الفتوح۔مورڈن، لندن۔تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے درج ذیل آیت قرآنی کی تلاوت کی:۔لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أَسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِمَنْ كَانَ يَرْجُوا اللهَ وَالْيَوْمَ الْآخِرَ وَذَكَرَ اللهَ كَثِيرًا (الاحزاب : 22) پھر فرمایا:۔گزشتہ دو تین خطبات سے میں نے سیرت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا مضمون شروع کیا ہوا ہے۔جس کی فوری وجہ بعض معترضین اسلام اور مخالفین اسلام کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر بعض بیہودہ الزامات تھے۔لیکن اب میرا خیال ہے کہ آپ کی سیرت اور آپ کے شمائل کے مختلف پہلوؤں کو لے کر کچھ بیان کروں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت اور آپ کا اعلیٰ خلق اتنا وسیع ہے اور ہر طرف پھیلا ہوا ہے اور اس کے کئی پہلو ہیں جن کو مکمل طور پر بیان کرنا ممکن نہیں ہے۔ہر خلق کی اتنی بیشمار مثالیں ہیں کہ ان کو سلسلہ خطبات میں بھی بیان کرنا ممکن نہیں۔لیکن میں نے سوچا ہے کہ ان اعلیٰ ترین اخلاق کے نمونوں کی چند مثالیں پیش کروں گو اس کے لئے بھی کئی خطبے درکار ہوں گے۔بہر حال اپنے اس پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عادات، آپ کے اطوار اور