خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 827
۶۸ اسماء صفحہ میں تو اس مسافر کی طرح گزارہ کرتا تشریف لائے۔اسماء صفحہ 103 ہوں جو اونٹ پر سوار منزل مقصود کو جاتا ہو۔485۔آخری بیماری کے دوران بار بار غشی ہیں۔نقش و نگار والا لباس تحفتاً ملنے پر آنے کے باوجود آپ کو نماز کی فکر تھی۔104۔آپ کی آخری وصیت اور آخری پیغام - الصَّلوة وَ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ۔105 فرمایا۔یہ لباس فلاں کو بھیج دو اور میرے لئے تو سادہ کپڑے کالباس مہیا کرو۔شکر گزاری۔فتح مکہ پر آپ کا دل خدا عہد کی پاسداری۔عبداللہ بن ابی الحمساء کے شکر سے بھر گیا اور آپ نے سجدہ کیا۔156 کے بھول جانے سے رسول کریم ع کو أَفَلَا أُحِبُّ أَنْ أَكُونَ عَبْدًا شَكُورًا۔97 ایک جگہ تین دن انتظار کرنا پڑا۔420419 شجاعت۔دشمن سر پر کھڑے ہونے کے عیادت۔کسی کے تین دن سے زائد بیمار با وجود غار ثور میں حضور کا حضرت ابوبکر رہنے کی صورت میں اس کی عیادت کے کو فرمانا۔لَا تَحْزَنْ إِنَّ اللَّهَ مَعَنَا۔لئے تشریف لے جایا کرتے تھے۔۔غزوہ حنین میں آپ یہ شعر پڑھتے ی۔بیوی کی عیادت کے لئے یہ دعا جاتے تھے۔أَنَا النَّبِيُّ لَا كَذِبْ أَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبْ 217 263 95 کرتے ” أَذْهِبِ الْبَأْسَ رَبَّ النَّاسِ 234 وَ اشْفِ أَنْتَ الشَّافِيْ لَا شِفَاءَ إِلَّا شِفَاءُ كَ شِفَاء لَا يُغَادِرُ سَقَمًا۔234 عبادت۔غارِ حرا میں کئی کئی روز تن تنہا مسکینی۔اے اللہ ! مجھے مسکینی کی حالت اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے رہتے تھے۔59 میں زندہ رکھ اور مجھے مسکینی کی حالت میں نماز میں شدت گریہ و زاری کے وفات دینا اور قیامت کے دن مساکین کے گروہ میں سے مجھے اٹھانا۔باعث آپ کے سینے سے ہنڈیا کے ابلنے کی آواز کی طرح آواز آتی۔وسعت حوصلہ۔ایک اعرابی کا مسجد میں سفر سے واپسی پر سیدھے مسجد جا کر دو پیشاب کرنا اور آپ کا صحابہ کو حوصلہ اور رکعت نفل ادا کرتے۔102 برداشت کی تعلیم دینا۔جنگ احد کی شام خود کی کڑیاں لگنے محمد بن حصین اور ہ ے صحابہ کی شہادت کے غم کے باوجود۔آپ کی دادی ام سنبلہ کو آنحضور آپ عام دنوں کی طرح نماز کے لئے نے ایک وادی تحفہ میں دی۔487 505 171