خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 813 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 813

۵۴ اسماء صفحہ اسماء۔آپ ہر رمضان میں آنحضور کے پاس کے برابر بھی میرے پاس اونٹ ہوں تو قرآن کریم کا ایک دور مکمل کرواتے رہے۔624 میں ان کو تقسیم کرنے میں خوشی محسوس جبریل نے یہ خوشخبری سنائی کہ اللہ کروں گا۔اور تم مجھے کبھی بخل سے کام لینے تعالی آنحضور کے حق میں فرماتا ہے کہ جو والا، جھوٹ بولنے والا یا بزدلی دکھانے آپ پر درود بھیجے گا میں اس پر اپنی رحمتیں والا نہیں پاؤ گے۔نازل کروں گا اور جو آپ پر سلام بھیجے گا میں اس پر سلامتی بھیجوں گا۔202 جریر بن عبد الله۔حضور جب بھی انہیں دیکھتے تو مسکرا ہے۔جبریل نے کہا یہ ستر ہزار ہیں جو دیا کرتے تھے۔تیری امت کے ہراول دستے کے طور پر ہوں گے اور ان سے حساب نہ لیا جائے گا، نہ انہیں عذاب دیا جائے گا۔۔آپ فرماتے ہیں۔میں نے ہمیشہ ﷺ صفحہ 166 111 227 آپ کو مسکراتے ہوئے ہی پایا۔113 یں۔جبریل آنحضور کے پاس آئے اور کہا جلال الدین صاحب یلانی۔منشی 578 کہ یہ نصف شعبان کی رات ہے اس رات جمال احمد صاحب حضرت حافظ میں اللہ تعالیٰ ایک بھیڑ کے بالوں کی تعداد کے برابر لوگوں کو آگ سے نجات بخشتا ہے 100۔جبریل نے مجھے سجدے میں یہ الفاظ۔آپ ماریشس بطور مبلغ ۲۹ جولائی ۱۹۲۸ء کو پہنچے۔711۔آپ کی وفات پر خلیفہ امسیح الثانی پڑھنے کے لئے کہا ہے۔جو یہ پڑھتا ہے وہ سراٹھانے سے پہلے بخشا جاتا ہے۔سَجَدَ نے فرمایا۔وہ زمین مبارک ہے جس میں لَكَ سَوَادِي وَ خَيَالِي وَآمَنَ لَكَ ایسا اولو العزم اور پارسا انسان مدفون ہوا 711 فُؤَادِي رَبِّ هَذِهِ يَدَايَ وَ مَا جَنَيْتُ جمال الدین۔میاں بِهَا عَلَى نَفْسِيْ يَا عَظِيمًا يُرْجَى لِكُلِّ عَظِيْمِ اِغْفِرِ الذَّنْبَ الْعَظِيْمِ۔جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ 101۔کم معاش ہونے کے باوجود چندوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے۔۔آپ سے ایک روایت ہے۔آنحضور نے فرمایا: اگر اس وسیع جنگل حارثہ بن وہب رضی اللہ عنہ 11