خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 69
خطبات مسرور جلد سوم 69 خطبہ جمعہ 4 فروری 2005ء بیٹا نہیں پیدا ہوا۔جب میں نے داتا دربار میں حاضری دی تو مجھے بیٹا مل گیا۔تو اللہ تعالیٰ کی بجائے دا تا صاحب ان کے سب کچھ تھے۔کوئی خدا کا خوف نہیں ہے اور برصغیر میں جیسا کہ میں نے کہا کہ مسلمان کہلا کر اس شرک میں بہت سارے لوگ مبتلا ہورہے ہیں۔اللہ کے رسول نے ایسے لوگوں پر لعنت ڈالی ہے۔پھر ایک روایت میں آتا ہے۔حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں کہ حضرت اتم سلمیٰ نے حبشہ کے ایک گرجے کا ذکر کیا جو ماریہ کے نام سے موسوم تھا اور اس میں انہوں نے تصاویر رکھی ہوئی تھیں۔اس پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ وہ قوم ہے کہ جب ان میں کوئی نیک بنده یا آدمی فوت ہو جاتا ہے تو یہ لوگ اس کی قبر پر مساجد بنا لیتے ہیں اور ان میں بت بنا لیتے ہیں۔یہ لوگ خدا کے ہاں بدترین مخلوق ہیں۔(بخاری کتاب الصلاة باب الصلوة في البيعة) ایک جگہ یوں بھی ذکر آیا ہے کہ آپ کی بیماری کی حالت میں یہ بات کہی گئی تھی۔تو یہ سن کر آپ جوش سے اٹھ بیٹھے اور آپ نے فرمایا برا ہو ایسے لوگوں کا جو یہ کرتے ہیں۔آپ کا اپنا تو یہ حال تھا کہ یہ دعا کیا کرتے تھے کہ "اللَّهُمَّ لَا تَجْعَلْ قَبْرِى وَثْنا کہ اے اللہ ! میری قبر کو بت پرستی کی جگہ نہ بنانا۔جو شخص ساری عمر میں ہر وقت، ہرلمحہ خدا تعالیٰ کی محبت میں سرشار رہا، توحید کے قیام کی کوشش کرتا رہا، جس کے پاؤں ساری ساری رات عبادت کرتے ہوئے متورم ہو جایا کرتے تھے، سوج جایا کرتے تھے۔جس کی خواہش تھی تو صرف ایک کہ دنیا کا ہر شخص خدائے واحد کی عبادت کرنے والا بن جائے وہ بھلا کس طرح برداشت کر سکتا تھا کہ اس کی قبر شرک کی جگہ بنے۔اور آج تک اللہ تعالیٰ نے اس دعا کو قبول کرتے ہوئے اس بابرکت قبر کو شرک سے محفوظ رکھا ہوا ہے۔لیکن مسلمانوں پر حیرت ہوتی ہے جیسا کہ میں نے پہلے بتایا ہے کہ دوسرے پیروں فقیروں کی قبروں پر جا کر شرک کرتے ہیں اور شرک کے اڈے بنے ہوئے ہیں۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: ”پس میں ہمیشہ تعجب کی نگاہ سے دیکھتا ہوں کہ یہ عربی نبی جس کا نام محمد ہے۔( ہزار ہزار درود اور سلام اُس پر ) یہ کس عالی مرتبہ