خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 59
خطبات مسرور جلد سوم 59 خطبہ جمعہ 14 فروری 2005ء پھر آپ کی جوانی کا زمانہ دیکھیں کس طرح ایک غار میں جا کر ایک خدا کی عبادت کیا کرتے تھے۔آپ غار حرا میں کئی دن گزارتے۔علیحدگی میں اپنے رب سے راز و نیاز کی باتیں کرتے ، اس کی عبادت کرتے۔یہ دیکھ کر آپ کے ہم قوم بھی کہنے لگ گئے کہ محمد ( ﷺ ) تو اپنے رب کا عاشق ہو گیا ہے۔اس بارہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ: ” رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک ذات کے عاشق زار اور دیوانہ ہوئے اور پھر وہ پایا جود نیا میں کبھی کسی کونہیں ملا۔آپ کو اللہ تعالیٰ سے اس قدر محبت تھی کہ عام لوگ بھی کہا کرتے تھے کہ عَشِقَ مُحَمَّدٌ عَلَى رَبِّهِ یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم اپنے رب پر عاشق ہو گیا۔(ملفوظات جلد سوم صفحہ 524 جدید ایڈیشن) پھر جوانی میں ہی بتوں سے نفرت کی ایک اور مثال دیکھیں۔جب حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابو طالب کے ساتھ سفر شام کے دوران بحیرہ راہب سے ملے تو اس نے کہا کہ اے صاحبزادے! میں تم سے لات و عُزّی کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں کہ تم مجھے اس بات کا جواب دو۔بحیرہ نے ان بتوں کا واسطہ دے کر اس وجہ سے پوچھا کیونکہ قریش سے بات پوچھنے کا یہی طریق تھا۔لات و عزمی ان کے بڑے بت تھے ) اس پر حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھ سے ان بتوں کا واسطہ دے کر سوال نہ کرو کیونکہ مجھے ان دونوں سے شدید نفرت ہے۔اس کے بعد بحیرہ نے حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مزید گفتگو خدا کا واسطہ دے کر کی۔پھر ایک اور روایت جس سے آپ کی بتوں سے نفرت اور صرف اور صرف خدا تعالیٰ کا بندہ رہنے کا اظہار ہوتا ہے یوں ہے۔حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی کے نزول سے قبل آپ کی زید بن عمرو سے ملاقات ہوئی ، نبی کریم کے سامنے کھانا پیش کیا گیا ، آپ نے اس میں سے کھانے سے انکار کر دیا۔پھر زید نے کہا کہ میں اس میں سے کھانے والا نہیں جو تم بتوں کے نام پر ذبح کرتے ہو اور میں نہیں کھا تا سوائے اس کے جس (السيرة النبوية لابن هشام قصة بحيرى ) پر اللہ تعالیٰ کا نام پڑھا گیا ہو۔(بخاری کتاب المناقب باب حديث زيد بن عمرو بن نفيل)