خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 594
خطبات مسرور جلد سوم 594 خطبہ جمعہ 7 اکتوبر 2005ء انتظار ہونا چاہئے تبھی ہم گزشتہ سال میں جو رمضان گزرا ہے اس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ،اس میں جو ہم نے نیکیاں کی تھیں، جو تقویٰ اختیار تھا، جو منزلیں ہم نے حاصل کی تھیں، ان کا فیض پا سکتے ہیں۔اس رمضان میں یہ جائزہ لینا چاہئے کہ گزشتہ رمضان میں جو منزلیں حاصل ہوئی تھیں کیا ان پر ہم قائم ہیں۔کہیں اس سے بھٹک تو نہیں گئے۔اگر بھٹک گئے تو رمضان نے ہمیں کیا فائدہ دیا۔اور یہ رمضان بھی اور آئندہ آنے والے رمضان بھی ہمیں کیا فائدہ دے سکیں گے۔اللہ تعالیٰ تو یہ فرماتا ہے کہ اگر یہ فرض روزے رکھو گے تو تقویٰ پر چلنے والے ہو گے، نیکیاں اختیار کرنے والے ہو گے، اللہ تعالیٰ کا قرب پانے والے ہو گے۔لیکن یہ کیا ہے کہ ہمارے اندر تو ایسی کوئی تبدیلی نہیں آئی جس سے ہم کہہ سکیں کہ ہمارے اندر تقویٰ پیدا ہو گیا ہے۔یہ بات تو سو فیصد درست ہے کہ خدا تعالیٰ کی بات کبھی غلط نہیں ہو سکتی۔بندہ جھوٹا ہوسکتا ہے اور ہے۔پس یہ بات یقینی ہے کہ ہمارے اندر ہی کمزوریاں اور کمیاں ہیں یا تو پہلے رمضان جتنے بھی گزرے ان سے ہم نے فائدہ نہیں اٹھایا، یا وقتی فائدہ اٹھایا اور پھر وقت کے ساتھ ساتھ اسی جگہ پر پہنچ گئے جہاں سے چلے تھے۔حالانکہ چاہئے تو یہ تھا کہ تقویٰ کا جو معیار گزشتہ رمضان میں حاصل کیا تھا، یہ رمضان جو آب آیا ہے، یہ ہمیں نیکیوں میں بڑھنے اور تقویٰ حاصل کرنے کے اگلے درجے دکھاتا۔پس جنہوں نے گزشتہ سال کے رمضان میں اپنے اندر جو تبدیلیاں پیدا کیں، جو تقویٰ حاصل کیا، جو تقویٰ کے معیارا اپنی زندگیوں کے حصے بنالئے وہ تو خوش قسمت لوگ ہیں اور اب ان کے قدم آگے بڑھنے چاہئیں۔اور جو بھلا بیٹھے یا جنہوں نے کچھ حاصل ہی نہیں کیا ان کو سوچنا چاہئے کہ روزے ہمیں کیا فائدہ دے رہے ہیں۔اگر کسی چیز کا فائدہ ہی نہیں ہے تو اس کو کرنے کی کیا ضرورت ہے۔لیکن جیسا کہ میں نے کہا روزوں کا فائدہ ہے اور یقینا ہے، اللہ تعالیٰ کا کلام کبھی غلط نہیں ہوسکتا۔پس ہم سے جو غلطیاں ہوئیں اس کی خدا سے معافی مانگنی ہو گی اور یہ عہد کرنا ہوگا کہ اے میرے خدا میری گزشتہ کوتاہیوں کو معاف فرما اور اس رمضان میں مجھے وہ تمام نیکیاں کرنے کی توفیق عطا فرما جو تیرا قرب دلانے والی ہوں اور مجھے اس رمضان کی برکات سے