خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 530 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 530

خطبات مسرور جلد سوم 530 خطبہ جمعہ 2 ستمبر 2005ء کھینچنے اور پھر ان فضلوں کو جو ہر ایک کو نظر آرہے تھے جلسے کے اس ماحول پر نازل ہوتا دیکھنے کے لئے ، حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کی وہ دعا ئیں تھیں جو آج سے سو سال سے زائد عرصہ پہلے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جلسہ پر آنے والے شاملین کے لئے کیں۔قادیان کے جلسہ سالانہ میں شامل ہونے والوں کے لئے کی گئی وہ دعائیں آج دنیائے احمدیت کے ہر ملک میں جہاں جہاں جماعت احمدیہ کے جلسے منعقد ہوتے ہیں اور ہم ان جلسوں کو دیکھتے ہیں تو ان دعاؤں کے اثر بھی اپنے اوپر دیکھتے ہیں۔ان جلسوں سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا مقصد اپنی قائم کردہ جماعت میں ایک پاک تبدیلی پیدا کرنا تھا۔ہر احمدی کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ پر چلنے والا بنانا تھا۔ہر احمدی کو خدا تعالیٰ کا حقیقی عبد بنانا تھا۔پس اس مقصد کے لئے آپ نے ان جلسوں کا انعقا د فرمایا اور آپ نے اس بات پر بڑی گہری نظر رکھی کہ لوگ ، احباب جماعت، جب جلسے پر آئیں تو اس مقصد کو لے کر آئیں کہ انہوں نے اپنے اندر پاک تبدیلی پیدا کرنی ہے۔ایک سال آپ کو خیال آیا، یہ احساس پیدا ہوا کہ جلسے کا جو مقصد ہے وہ پورا نہیں ہوا، جو لوگ شامل ہوئے ہیں ان میں سے اکثریت یا بعض ایسے تھے جو اس جلسے کو بھی دنیاوی میلہ سمجھ رہے تھے۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس وجہ سے ایک سال جلسہ منعقد نہیں فرمایا۔اور یہ اعلان فرمایا کہ میرا مقصد جلسے سے اپنے ماننے والوں کی تعداد کا اظہار کرنا یا اپنی بڑائی ظاہر کروانا نہیں ہے بلکہ میں تو چاہتا تھا کہ لوگ خالصتا اللہ اس جلسے کے لئے آئیں۔اور فرمایا کہ گزشتہ سال کے جلسے سے مجھے یہ لگا ہے کہ لوگ اس کو بھی ایک دنیاوی میلہ سمجھنے لگ گئے ہیں۔اور یہ بات میرے لئے سخت کراہت والی ہے۔اس لئے فرمایا کہ اس سال جلسہ نہیں ہو گا۔اور اس وقت جب ایسی صورتحال پیدا ہوئی ہو گی تو آپ جو اپنی جماعت میں ایک پاک تبدیلی اور پاک نمونے قائم ہوتا دیکھنا چاہتے تھے آپ نے اس وقت جب اگلے سال جلسہ منعقد ہوا یا اس سال میں بھی بڑی شدت سے اپنی جماعت کے لئے دعائیں کی ہوں گی کہ اللہ تعالیٰ ان میں روحانیت پیدا کرے ان میں پاک تبدیلیاں پیدا کرے اور یہ کہ جلسہ میں شامل ہونے والے خالصتا اللہ جلسہ