خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 490 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 490

خطبات مسرور جلد سوم 490 خطبه جمعه 12 اگست 2005 ء ہے؟۔سہل نے جواب دیا کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے تادم آخر کبھی چھنے ہوئے آٹے کی چپاتی نہیں دیکھی۔اس پر میں نے پوچھا کیا تمہارے پاس آنحضرت کے زمانہ میں چھلنیاں نہیں ہوا کرتی تھیں۔انہوں نے کہا آنحضرت نے اپنی بعثت سے لے کر وفات تک چھلنی نہیں دیکھی۔ابو حازم کہتے ہیں میں نے سہل سے پوچھا آپ بغیر چھانے کے جو کا آٹا کس طرح کھاتے تھے۔انہوں نے کہا کہ ہم کوٹنے کے بعد اسے پھونکیں مار لیتے اور اس طرح جواڑ نا ہوتا وہ اڑ جا تا اور باقی کو ہم بھگو کر کھا لیتے۔(بخارى - كتاب الاطعمة - باب ما كان النبي ﷺ واصحابه ياكلون صلى الله ایک روایت اور بھی ہے اس میں آتا ہے کہ ایک دفعہ ایک خادمہ ( کسی دوسرے ملک سے آئی تھی لونڈی) آٹا چھان رہی تھی تو آپ نے اسے فرمایا کہ یہ کیا کر رہی ہو؟ اس نے کہا آٹا چھان رہی ہوں، ہمارے ملک میں تو اس طرح چھانا جاتا ہے۔آپ نے فرمایا نہیں اس کو بیچ میں ملا دو۔حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میرے علم میں نہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی طشتریوں میں کھانا کھایا ہو اور نہ ہی آپ کے لئے کبھی چپاتیاں پکائی گئی ہیں ، روٹی پکائی گئی اور نہ کبھی آپ نے تپائی (چھوٹی میز سامنے رکھ کر اونچی چیز پر لگا ہوا کھانا با قاعدہ کھایا ہو۔تو قتادہ رضی اللہ عنہ سے سوال کیا گیا کہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کس پر کھانا کھایا کرتے تھے۔تو انہوں نے جواب دیا کہ دستر خوان پہ۔یعنی زمین پہ کپڑا بچھا لیتے تھے۔اور اس پہ بیٹھ کے کھانا کھایا کرتے تھے۔(بخارى كتاب الاطعمة - باب الخبز المرقق والاكل على الخوان والسفرة) باوجود اس کے کہ آپ ایک طرح سے حکومت کے سربراہ بھی تھے، آپ حکومتی معاملات کسی در بار یا تخت پر بیٹھ کر نہیں فرمایا کرتے تھے بلکہ مسجد نبوی ہی آپ کا تخت و در بار تھا۔یا سفر پر ہوتے تو جو بھی جگہ میسر آجاتی وہیں دربار لگ جاتا۔لیکن اس کے باوجود اس در بار کا رعب لوگوں کے دلوں پر دنیا وی بادشاہوں کے درباروں سے زیادہ ہوتا تھا۔