خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 407
خطبات مسرور جلد سوم 407 خطبہ جمعہ 8 جولائی 2005ء رہے اپنی عبادتوں کے معیار بڑھانے کا ، وہ قائم کریں اور قصبے میں مقامی لوگوں کی بھی ایک مضبوط جماعت قائم کرنے کے قابل ہو سکیں۔تو بہر حال یہ عجیب نظارے جماعت کی قربانیوں کے دنیا میں نظر آتے ہیں۔جہاں دنیا اپنے پیسے کھیل کود میں ضائع کر رہی ہوتی ہے ، وہاں احمدی اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کے لئے ، اس کی رضا حاصل کرنے کے لئے اپنے پیسے کا استعمال کر رہا ہوتا ہے۔کیونکہ آج اس کو یہ فہم اور ادراک ہے کہ خدا کی راہ میں خرچ کرنے میں ہی اس کی بہتری اور بھلائی ہے۔کیونکہ کھیل کود میں خرچ کیا ہوا پیسہ تو ضائع ہو جاتا ہے، لہو ولعب میں خرچ کیا ہوا پیسہ تو ضائع ہو جاتا ہے، لیکن خدا کی راہ میں خرچ کئے ہوئے پیسے کے ضائع ہونے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔بلکہ اللہ تعالیٰ کے وعدوں کے مطابق اللہ تعالیٰ لوٹاتا ہے۔کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لئے خرچ کیا جا رہا ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی یہ سنت ہے کہ وہ ادھار نہیں رکھتا۔اور نہ صرف ادھار نہیں رکھتا بلکہ کئی گنا بڑھا کر احسان کر کے دیتا ہے۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ ليْسَ عَلَيْكَ هُدَهُمْ وَلكِنَّ اللهَ يَهْدِي مَنْ يَّشَاءُ - وَمَا تُنْفِقُوا مِنْ خَيْرٍ فَلَانْفُسِكُمْ وَمَا تُنْفِقُوْنَ إِلَّا ابْتِغَاءَ وَجْهِ اللَّهِ ۖ وَمَا تُنْفِقُوْا مِنْ خَيْرٍ يُوَفَّ إِلَيْكُمْ وَأَنْتُمْ لَا تُظْلَمُوْنَ ﴾ (البقرة: 273) یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کر کے یہ فرمایا کہ ہدایت دینا تجھ پر فرض نہیں ہے۔یہ ہدایت اللہ نے لوگوں کو دینی ہے۔لیکن فرمایا اللہ جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے۔اور پھر جب ہدایت دیتا ہے۔اور آگے فرمایا کہ جو بھی تم مال میں سے خرچ کرو وہ تمہارے اپنے ہی فائدے میں ہے۔جبکہ تم تو اللہ کی رضا جوئی کے سوا کبھی خرچ نہیں کرتے اور جو بھی تم مال میں سے خرچ کرو وہ تمہیں بھر پور واپس کر دیا جائے گا اور ہر گز تم سے کوئی زیادتی نہیں کی جائے گی۔تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہدایت دینا اور ہدایت پر قائم رکھنا اللہ تعالیٰ کا کام ہے۔اور اللہ تعالیٰ ہر اس شخص کو ہدایت دیتا ہے، جیسا کہ دوسری جگہ ذکر آیا کہ الَّذِيْنَ يُؤْمِنُوْنَ بِالْغَيْبِ وَيُقِيمُونَ الصَّلوةَ وَمِمَّا رَزَقْنَهُمْ يُنْفِقُونَ ﴾ (البقرة:4) کہ غیب پر ایمان بھی لاتے ہیں، نمازیں قائم