خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 305
خطبات مسرور جلد سوم 305 خطبہ جمعہ 20 رمئی 2005 ء مطلب یہی ہے کہ اس کو بدی کی طرف، برائی کی طرف کوئی رغبت نہیں ہوتی۔پھر حضور نے یہ آیت پڑھی کہ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ التَّوَّابِينَ وَيُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِينَ ) اللہ تعالیٰ تو بہ قبول کرنے والوں اور پاکیزگی اختیار کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔عرض کیا گیا یا رسول اللہ ! تو بہ کی علامت کیا ہے؟ آپ نے فرمایا ندامت اور پشیمانی علامت تو بہ ہے۔تو دیکھیں علامت یہ بتائی کہ ندامت ہو، پشیمانی ہو اور اس کی وجہ سے پھر آئندہ ان سے بچتا بھی رہے۔کیونکہ جس بات کی ندامت ہو اور پشیمانی ہو اس بات کو انسان دوبارہ جان بوجھ کر نہیں کرتا۔تو بہ کے بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں:۔یہ بات بھی یاد رکھنی چاہئے کہ تو بہ کے تین شرائط ہیں۔بدوں اُن کی تکمیل کے سچی توبہ جسے توبة النصوح کہتے ہیں ، حاصل نہیں ہوتی۔ان ہر سہ شرائط میں سے پہلی شرط جسے عربی زبان میں اقلاع کہتے ہیں۔یعنی ان خیالات فاسدہ کو دور کر دیا جاوے جو ان خصائل ردیہ کے محرک ہیں۔( یعنی جن کی وجہ سے رڈی خیالات دل میں پیدا ہوتے ہیں) اصل بات یہ ہے کہ تصورات کا بڑا بھاری اثر پڑتا ہے۔کیونکہ حیطۂ عمل میں آنے سے پیشتر ہر ایک فعل ایک تصوری صورت رکھتا ہے۔پس تو بہ کے لئے پہلی شرط یہ ہے کہ اُن خیالات فاسدہ و تصورات بد کو چھوڑ دے۔مثلاً اگر ایک شخص کسی عورت سے کوئی ناجائز تعلق رکھتا ہے تو اُسے تو بہ کرنے کے لئے پہلے ضروری ہے کہ اس کی شکل کو بدصورت قرار دے۔اور اس کی تمام خصائلِ رذیلہ کو اپنے دل میں مستحضر کرے ( یعنی گھٹیا اور ذلیل باتوں کو ذہن میں لائے ) کیونکہ جیسا میں نے ابھی کہا ہے تصورات کا اثر بہت زبر دست اثر ہے۔پس جو خیالات بدلذات کا موجب سمجھے جاتے تھے ان کا قلع قمع کرے۔یہ پہلی شرط ہے۔دوسری شرط نَدَم ہے۔یعنی پشیمانی اور ندامت ظاہر کرنا۔ہر ایک انسان کا کانشنس اپنے اندر یہ قوت رکھتا ہے کہ وہ اس کو ہر برائی پر متنبہ کرتا ہے۔مگر بد بخت انسان اس کو معطل چھوڑ دیتا ہے۔پس گناہ اور بدی کے ارتکاب پر پشیمانی ظاہر کرے اور یہ خیال کرے کہ یہ لذات عارضی اور چند روزہ ہیں۔اور پھر یہ بھی سوچے کہ ہر مرتبہ اس لذت اور حظ میں کمی ہوتی جاتی ہے۔یہاں