خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 259 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 259

خطبات مسرور جلد سوم 259 خطبہ جمعہ 22 راپریل 2005 ء ہو رہے ہیں کہ دشمن کا حملہ سخت ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس سے محفوظ رکھنا ہے۔وہ یہ اعتراف کر رہے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ان کے لئے ڈھال ہوتے تھے۔آپ بھی اس فکر سے جنگ میں دشمن کے حملوں کو نا کام کرتے تھے، اس فکر سے لڑ رہے ہوتے تھے کہ میں نے اپنے صحابہ کی حفاظت بھی کرنی ہے اور دشمن کے حملوں کو نا کام بھی کرنا ہے۔تو یہ تھے جرات و شجاعت و بہادری کے نمونے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دکھائے۔پھر جنگ بدر کے موقع پر آپ کی جرات و بہادری کا ایک واقعہ ہے۔حضرت انس بن مالک سے مروی ہے۔کہتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ مدینے سے روانہ ہوئے اور مشرکین سے پہلے بدر کے میدان میں پہنچ گئے۔پھر مشرکین بھی پہنچ گئے۔تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں سے کوئی آگے نہ بڑھے جب تک میں اس سے آگے نہ ہوں۔(یعنی میرے پیچھے رہنا اور دشمن سے مقابلے کے وقت میں ہی سب سے آگے ہوں گا۔) پھر جب مشرکین آگے بڑھ کر اسلامی فوج کے قریب آئے تب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اس جنت کو حاصل کرنے کے لئے آگے بڑھو جس کی لمبائی اور چوڑائی آسمانوں اور زمینوں کے برابر ہے۔(مسند احمد بن حنبل جلد 3 صفحه 136 137 مطبوعه بيروت) یعنی جب با قاعدہ لڑائی شروع ہو گئی تو پھر سب کو اجازت دی کہ اب اپنے اپنے ہنر دکھاؤ اور اب جنگ میں کود پڑو۔اب بزدلی نہیں دکھانی۔اور آپ بھی ان میں پیش پیش تھے۔پھر آپ کی جنگ کے بارے میں حضرت علی بیان کرتے ہیں کہ جب میدان جنگ خوب گرم ہو جاتا اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اردگر دشدید لڑائی شروع ہو جاتی ، جیسا کہ میں نے کہا کہ زیادہ مرکز کی طرف حملہ ہوتا تھا۔تو کہتے ہیں کہ ہم رسول کریم کی پناہ لیا کرتے تھے۔ایسے مواقع پر تمام لوگوں کی نسبت آپ دشمن کے زیادہ قریب ہوا کرتے تھے۔پھر آگے کہتے ہیں کہ بدر میں میں نے آپ کو دیکھا میں آپ کی پناہ لئے ہوئے تھا حالانکہ آپ کفار کے بالکل قریب پہنچے ہوئے تھے تو اس روز حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے سب سے زیادہ سخت جنگ کی۔جنگ کی