خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 187
خطبات مسرور جلد سوم 187 خطبہ جمعہ 25 / مارچ 2005ء دفعہ حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ کھڑے ہوئے۔اور عرض کی کہ اگر حضور مناسب سمجھیں تو ان کو معاف فرما دیں اور ان سے فدیہ لے لیں۔یہ سن کر حضور کے چہرے سے غم کے آثار جاتے رہے۔چنانچہ حضور نے انہیں معاف کر دیا اور ان سے فدیہ قبول فرمالیا۔(مسند احمد بن حنبل جلد 3 صفحه 243۔مطبوعه بيروت ) آپ کی زیادہ سے زیادہ یہ کوشش ہوتی تھی کہ نرمی اور درگزر کا سلوک کیا جائے۔چاہے دشمن ہی کیوں نہ ہو جب آپ نے حضرت ابو بکر" کے نرمی کے سلوک کی رائے سنی تو فوراً اس پر عملدرآمد کر وایا۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی طبیعت میں سختی تھی۔اس لئے باوجود اس کے کہ آپ حضرت عمر کی رائے کو بڑی اہمیت دیا کرتے تھے اس موقع پر اس سے اعراض فرماتے رہے۔چنانچہ جب ایک موقع پر حدیبیہ کے معاہدے پر عمل نہ کرنے کی وجہ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کفار مکہ کو معاہدہ توڑنے کی سزا دینے کا فیصلہ فرمایا تو اس وقت قریش کے حوالے سے آپ کے دل میں نرمی نہیں آئی بلکہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی نرم رائے کے مقابلے میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی سخت رائے کو زیادہ فوقیت دی اور اس پر عمل کیا۔چنانچہ ذکر آتا ہے کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے آنحضور ﷺ کو تیاری کرتے ہوئے دیکھ کر عرض کی یا رسول اللہ کیا آپ کسی علاقے کی طرف لشکر کشی کا ارادہ رکھتے ہیں۔آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں ! پھر حضرت ابو بکر نے کہا شاید آپ بنوا صفر یعنی اہل روم کی طرف لشکر کشی کرنا چاہتے ہیں؟ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں۔پھر حضرت ابو بکر نے کہا کیا آپ اہل نجد کی طرف لشکر کشی کرنا چاہتے ہیں۔آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں۔حضرت ابو بکر نے کہا پھر شاید آپ کا ارادہ قریش کی طرف ہے۔اس مرتبہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاں میں جواب دیا۔آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ جواب سن کر ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی یا رسول اللہ ! کیا آپ میں اور ان میں معاہدے کے وقت ( باہم جنگ نہ کرنے ) کی مدت طے نہیں ہوئی تھی ؟ صلح حدیبیہ میں ایک مدت طے ہوئی تھی یہ سن کر آنحضور صلی