خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 136
خطبات مسرور جلد سوم 136 خطبہ جمعہ 4 / مارچ 2005ء تو خود تو آپ کی زندگی پاکیزہ تھی ہی، اس فکر میں بڑھاپا آیا کہ دوسرے بھی یہ معیار حاصل کر سکیں گے یا نہیں۔وہ بھی اپنی اپنی استعدادوں کے مطابق اللہ تعالیٰ کے حکموں پر عمل کر سکیں گے یا نہیں۔دوسرے لوگ بھی اللہ تعالیٰ کے احکام کے مطابق ان نیکیوں پر جن نیکیوں کا حکم ہے قائم ہو سکیں گے کہ نہیں ، ان برائیوں سے جن سے رکنے کا حکم ہے بیچ سکیں گے کہ نہیں، اس فکر میں آپ پر ایک عجیب حالت طاری رہتی تھی۔پھر اسی طرح باقی سورتیں ہیں جن کے مضامین میں اللہ تعالیٰ کی بڑائی اور آخری زمانے کی خبریں، لوگوں کی حالتیں نہ سدھرنے کی وجہ سے تباہیاں، دجل اور یہ سب کچھ ہیں۔تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جن کو اللہ تعالیٰ نے یقینا آئندہ کا زمانہ بھی دکھا دیا تھا اور آپ جو ہر ایک کے لئے رحمت تھے اس بات سے بے چین ہو جاتے تھے کہ دنیا کا کیا ہوگا ، اور امت کا کیا ہوگا اگر انہوں نے اللہ تعالیٰ کے احکامات پر عمل نہ کیا۔کیا کسی نے ایسا محسن انسانیت دیکھا ہے؟ جو قرآن کریم کے اس طرح سمجھنے کی وجہ سے کئی صدیوں دور کی حالت دیکھ کر بھی بے چین ہو رہا ہے۔آپ کہتے ہیں مجھے اپنی تو کوئی فکر نہیں ہے۔مجھے تو ان باتوں نے بوڑھا کر دیا ہے جو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی وجہ سے دنیا میں ہو رہی ہیں اور دنیا میں ہونے والی ہیں۔مجھے تو اس بات نے بوڑھا کر دیا ہے اور اس فکر نے بوڑھا کر دیا ہے، اور اس غم نے بے چین کر دیا ہے کہ کیوں دنیا اپنے پیدا کرنے والے خدا کی طرف رجوع نہیں کرتی ؟ پھر اور بہت ساری سورتیں ہیں۔جن کی آپ بڑی باقاعدگی سے تلاوت کیا کرتے تھے جن میں قوموں کی تباہی ، ان میں شرک رائج ہونے اور توحید سے پرے ہٹنے یا قیامت کے آنے وغیرہ کا ذکر ہے۔پھر ایسی سورتیں جن میں اللہ تعالیٰ کی تسبیح اور توحید کا ذکر ہے، نیکیوں پر قائم ہونے کا ذکر ہے، برائیوں سے ہے، بچنے کا ذکر ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام کا ذکر ہے ،آخرین کے زمانے کا ذکر ہے ، قربانیوں کا ذکر ہے جن میں مالی قربانیاں اور جانی قربانیاں ہیں ، اور پھر یہ آپ کو نصیحت کہ آپ تو صرف نصیحت کرتے چلے جائیں ، آپ کا کام نصیحت کرنا ہے۔تو یہ سورتیں بھی بہت سی ہیں جن کی تلاوت آپ اکثر کیا کرتے تھے بلکہ بعض روایتوں میں آتا ہے کہ روزانہ پڑھا کرتے تھے۔اور یہ تو ہم پہلی روایات میں دیکھ ہی آئے ہیں کہ آپ کے پڑھنے کا طریق کیا تھا۔عذاب کی آیات یا