خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 93
خطبات مسرور جلد سوم 93 خطبہ جمعہ 18 فروری 2005ء حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : ”ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی خلوت اور تنہائی کو ہی پسند کرتے تھے۔آپ عبادت کرنے کے لئے لوگوں سے دور تنہائی کی غار میں جو غار حرا تھی چلے جاتے تھے۔یہ غار اس قدر خوفناک تھی کہ کوئی انسان اس میں جانے کی جرات نہ کر سکتا تھا۔لیکن آپ نے اس کو اس لئے پسند کیا ہوا تھا کہ وہاں کوئی ڈر کے مارے بھی نہ پہنچے گا۔آپ بالکل تنہائی چاہتے تھے۔شہرت کو ہرگز پسند نہیں کرتے تھے۔مگر خدا تعالیٰ کا حکم ہوا تأَيُّهَا الْمُدَّثِرُ قُمْ فَانْذِرْ﴾ (المدثر : 2-3) اس حکم میں ایک جبر معلوم ہوتا ہے اور اسی لئے جبر سے حکم دیا گیا کہ آپ تنہائی کو جو آپ کو بہت پسند تھی اب چھوڑ دیں“۔(ملفوظات جلد 4 صفحه -34 جدید ایڈیشن - البدر مورخه 24 اگست 1904ء صفحه 43) تو اس تنہائی کو چھوڑنا اور اس کو چھوڑ کر دنیا کے سامنے آنا اور اپنے محبوب کا پیغام دنیا کو پہنچانا یہ بھی اس لئے تھا کہ حکم ہوا تھا کہ یہ کرو۔نہ کہ اپنی کوئی خواہش کو پورا کرنے کے لئے۔ایک روایت میں آتا ہے ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا روایت کرتی ہیں۔کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بعثت سے قبل تن تنہا کچھ زادراہ ساتھ لے کرا کیلے چلے جاتے تھے۔کچھ کھانے پینے کی چیزیں لے کر ، حرا نامی غار میں جا کر معتکف ہو کر عبادت کیا کرتے تھے۔وہاں آپ کئی کئی راتیں عبادت میں گزارتے اور پھر جب زادہ راہ ختم ہو جاتا تو آپ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے پاس واپس آتے اور مزید زاد راہ ساتھ لے لیتے اور پھر تنہائی میں جا کر اللہ کو یاد کر نے لگتے“۔مسلسل کئی کئی دن یہ عمل جاری رہتا تھا۔ہر وقت یہ فکر ہوتی تھی اور اس کوشش میں ہوتے تھے کہ میں اپنے محبوب اللہ سے راز و نیاز کی باتیں کروں۔جیسا کہ ذکر آ چکا ہے۔اللہ تعالیٰ کے حکم سے آپ نے جب تبلیغ شروع کی تو خانہ کعبہ میں کی۔عبادت کے لئے بعض دفعہ تشریف لایا کرتے تھے اور کفار مکہ کو بڑا سخت ناگوار گزرتا تھا کہ یہاں آ کر اس طرح اپنے طریقے سے عبادت کریں۔اور وہ آپ کو اس عبادت کرنے سے روکنے کے لئے مختلف حیلے اور کوششیں بھی کیا کرتے تھے۔لیکن آپ کو جو خدائے واحد سے عشق تھا وہ ان روکوں اور مخالفتوں سے ختم نہیں ہوسکتا تھا۔اس (بخاری کتاب بدء الوحى حديث نمبر 3)