خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 92 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 92

$2004 92 مسرور اب اس میں جن عزیزوں یا رشتوں کا ذکر ہے کہ ان سے پردہ کی چھوٹ ہے ان میں وہ سب لوگ ہیں جو انتہائی قریبی رشتہ دار ہیں۔یعنی خاوند ہے، باپ ہے یا سسر ہے، بھائی ہے یا بھتیجے، بھانجے وغیرہ۔ان کے علاوہ باقی جن سے رشتہ داری قریبی نہیں ان سب سے پردہ ہے۔پھر فرمایا کہ اپنی عورتوں کے سامنے تم زینت ظاہر کرسکتی ہو۔حضرت مصلح موعود فر ماتے ہیں کہ عورتوں کے سامنے زینت ظاہر کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ایسی عورتیں جو ہیں جن سے بے تکلفانہ یا بے حجابانہ تمہیں سامنے نہیں آنا چاہئے۔اب بازاری عورتیں ہیں ان سے بچنے کی تو ہر شریف عورت کوشش کرتی ہے۔ان کی حرکات، ان کا کردار ظاہر وباہر ہوتا ہے، سامنے ہوتا ہے لیکن بعض عورتیں ایسی بھی ہیں جو غلط قسم کے لوگوں کے لئے کام کر رہی ہوتی ہیں۔اور گھروں میں جا کر پہلے بڑوں سے دوستی کرتی ہیں۔جب ماں سے اچھی طرح دوستی ہو جائے تو پھر بچیوں سے تعلق قائم کرنے کی کوشش کرتی ہیں اور آہستہ آہستہ بعض دفعہ برائیوں کی طرف ان کو لے جاتی ہیں۔تو ایسی عورتوں کے بارہ میں بھی یہ حکم ہے کہ ہر ایرے غیرے کو، ہر عورت کو اپنے گھروں میں نہ گھنے دو۔ان کے بارہ میں تحقیق کر لیا کرو، اس کے بعد قدم آگے بڑھاؤ۔حضرت مصلح موعودؓ نے لکھا ہے کہ پہلے یہ طریق ہوا کرتا تھا لیکن اب کم ہے۔(کسی زمانے میں کم تھا لیکن آج کل پھر بعض جگہوں سے ایسی اطلاعیں آتی ہیں کہ پھر بعض جگہوں پر ایسے گروہ بن رہے ہیں )۔جو اس قسم کی حرکات کرتے ہیں۔خاص طور پر احمدی بچوں کو پاکستان میں بہت زیادہ احتیاط کرنی چاہئے۔بلکہ ماں باپ کو بھی احتیاط کرنی چاہئے کہ بعض دفعہ گھریلو کام کے لئے ایک عورت گھر میں داخل ہوتی ہے اور اصل میں وہ ایجنٹ ہوتی ہے کسی کی اور اس طرح پھر آہستہ آہستہ ورغلا کر پہلے دوستی کے ذریعہ اور پھر دوسرے ذریعوں سے غلط قسم کی عادتیں ڈال دیتی ہیں بچیوں کو۔تو ایسے ملازمین یا ملازمائیں جو رکھی جاتی ہیں، ان سے احتیاط کرنی چاہئے اور بغیر تحقیق کے نہیں رکھنی چاہئے۔اسی طرح اب اس طرح کا کام، بری عورتوں والا ، انٹرنیٹ نے بھی شروع کر دیا ہے۔جرمنی