خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 881
881 $2004 خطبات مسرور نہ ہو گا۔ایک پھل اور سایہ دار درخت کی طرح اپنے وجود کو بنانا چاہئے تا کہ مالک بھی خبر گیری کرتا رہے۔لیکن اگر اس درخت کی مانند ہوگا کہ جو نہ پھل لاتا ہے اور نہ پتے رکھتا ہے کہ لوگ سائے میں آ بیٹھیں تو سوائے اس کے کہ کاٹا جاوے اور آگ میں ڈالا جاوے اور کس کام آ سکتا ہے۔خدا تعالیٰ نے انسان کو اس لئے پیدا کیا ہے کہ وہ اس کی معرفت اور قرب حاصل کرے۔مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونَ﴾ (الذاريات: 57)۔جو اس اصل غرض کو مدنظر نہیں رکھتا اور رات دن دنیا کے حصول کی فکر میں ڈوبا ہوا ہے کہ فلاں زمین خریدلوں ، فلاں مکان بنالوں، فلاں جائیداد پر قبضہ ہو جاوے۔تو ایسے شخص سے سوائے اس کے کہ خدا تعالیٰ کچھ دن مہلت دے کر واپس بلالے اور کیا سلوک کیا جاوے۔انسان کے دل میں خدا تعالیٰ کے حصول کا ایک درد ہونا چاہئے جس کی وجہ سے اس کے نزدیک وہ ایک قابل قدر شے ہو جاوے گا۔اگر یہ درد اس کے دل میں نہیں ہے اور صرف دنیا اور اس کے مافیہا کا ہی درد ہے تو آخر تھوڑی سی مہلت پا کر وہ ہلاک ہو جاوے گا۔خدا تعالیٰ مہلت اس لئے دیتا ہے کہ وہ حلیم ہے لیکن جو اس کے حکم سے خود ہی فائدہ نہ اٹھاوے تو اسے وہ کیا کرے۔پس انسان کی سعادت اسی میں ہے کہ وہ اس کے ساتھ کچھ نہ کچھ ضرور تعلق بنائے رکھے۔سب عبادتوں کا مرکز دل ہے۔اگر عبادت تو بجالاتا ہے مگر دل خدا کی طرف رجوع نہیں ہے تو عبادت کیا کام آوے گی۔اس لئے دل کا رجوع نام اس کی طرف ہونا ضروری ہے۔(ملفوظات جلد 4 صفحه -221-222 - البدر 20 جنوری (1905 یعنی مکمل طور پر اللہ تعالیٰ کی طرف دل لگا رہنا چاہئے۔اللہ تعالیٰ ہمیں ہمیشہ شیطانی وسوسوں اور خیالات سے بچا کر رکھے۔ہمارے دلوں میں کبھی یہ خیال نہ آئے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اپنی عبادت کا کہہ کر ہمیں کسی مشکل میں ڈال دیا ہے۔بلکہ ہم بھی اپنے آقاومتاع کی پیروی میں اپنی آنکھوں کی ٹھنڈک نمازوں اور عبادتوں میں تلاش کرنے والے ہوں۔اللہ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔آمین