خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 874 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 874

$2004 874 خطبات مسرور ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے والا ہو۔اور یہی عبادتیں ہیں جو اسے عاجزی میں بھی بڑھائیں گی اور یہی عاجزی ہے جو پھر اسے اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کا موقع بھی مہیا کرے گی۔اللہ تعالیٰ ان کو اپنے قرب میں جگہ دے گا اور اسے انعام بھی ملیں گے۔پس عقل کرو۔یہ بھی یاد رکھو کہ یہ انعام عاجز ہو کر عبادت کرنے والے کو ہی ملتے ہیں۔اور پھر یہ کہ عبادتیں کرنے والے عبادتوں میں تھکتے بھی نہیں، بے صبرے بھی نہیں ہو جاتے۔یہ سوال بھی نہیں اٹھاتے کہ پانچ وقت کی نمازیں پڑھنی مشکل ہیں۔بلکہ اپنی پیدائش کے مقصد کو پہچانتے ہوئے خدا تعالیٰ کے سامنے جھکے رہتے ہیں۔جیسے کہ فرماتا ہے وَلَهُ مَنْ فِي السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ - وَمَنْ عِنْدَهُ لَا يَسْتَكْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِهِ وَلَا يَسْتَحْسِرُونَ ﴾ (الانبیاء: (20)۔اور اسی کا ہے جو آسمانوں اور زمین میں ہے اور جو اس کے حضور رہتے ہیں اس کی عبادت کرنے میں استکبار سے کام نہیں لیتے اور نہ کبھی تھکتے ہیں۔تو جب آسمانوں اور زمین میں ہر چیز اسی کی ہے تو پھر اس سے زیادہ کون اہم ہے جس کی طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ہر عقلمند انسان اس طرف زیادہ راغب ہو گا جہاں اس کو زیادہ فائدہ نظر آ تا ہوگا۔دنیاوی معاملات میں تو ہر کوئی فائدہ دیکھتا ہے لیکن اللہ کے معاملے میں اس طرف نظر نہیں جاتی۔حالانکہ اللہ تعالیٰ نے بڑا واضح طور پر فرمایا ہے کہ تمام فائدے تمہیں مجھ سے ہی ملنے ہیں۔اور میری طرف ہی جھکو۔عبادت کرو، تکبر کو چھوڑو۔اور کیوں یہ اللہ تعالیٰ کے معاملے میں یہ نہیں ہوتا ؟ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے چھوٹ دی ہوئی ہے۔اکثر دفعہ اپنی عبادت نہ کرنے والے یا شریک ٹھہرانے والوں کی فوری طور پر پکڑ نہیں کرتا، کیونکہ کھلی چھٹی دی ہوئی ہے کہ چاہے تو میری طرف آؤ، چاہے تو شیطان کی طرف جاؤ۔لیکن یہ بھی فرما دیا کہ شیطان کی طرف جا کر میرے انعاموں سے بھی محروم رہو گے اور دنیا میں بھی بعض دفعہ پکڑ ہوسکتی ہے اور بہر حال آخرت میں تو یقینی پکڑ ہے اگر اللہ تعالیٰ کی عبادت نہ کرنے والے ہو گے۔تو بہر حال مالک کو حق ہوتا ہے کہ جو اصول وضع کئے گئے ہیں ان پر عمل نہ کرنے والوں کو سزا دے۔لیکن اللہ تعالیٰ کے معاملے میں بعض عنظمند بننے والے یہ کہتے ہیں کہ سزا کا